menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Difa e Watan Se Tameer e Watan Tak

32 0
06.09.2026

دفاعِ وطن سے تعمیرِ وطن تک

چھ ستمبر کی تاریخ ہمیں ایک ایسے وقت کی یاد دلاتی ہے جب ملک کی سرحدوں پر خطرہ موجود تھا اور فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کو ڈھال بنا کر وطن کے دفاع کا فریضہ انجام دیا۔ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے پیچھے عزم، نظم، قربانی اور قومی یکجہتی کی وہ قوت ہوتی ہے جو ایک قوم کو مشکل ترین حالات میں بھی قائم رکھتی ہے۔ ہمارے شہداء اسی اجتماعی قوت کی علامت ہیں۔ انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ وطن محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ ان لوگوں کی امانت بھی ہے جو آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کر دیتے ہیں۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ یادیں بھی رسموں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ شہادت بھی کہیں ایک سالانہ تقریب کا عنوان نہ بن جائے۔ ہم ایک دن شہداء کے لیے دعائیں کریں، چند تقریریں سنیں، پرچم لہرائیں اور پھر اگلے دن اسی معاشرتی بے حسی میں واپس چلے جائیں جس میں قانون کی خلاف ورزی معمول، قومی وسائل کا ضیاع معمول، بدعنوانی قابل قبول اور اپنی ذمہ داری سے فرار ایک ذہانت سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی شہداء کی قربانیوں کو سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔ وطن کا دفاع صرف بندوق اٹھانے والے سپاہی کی ذمہ داری نہیں، ہر شہری اپنے کردار کے ذریعے اس دفاع میں شریک ہوتا ہے۔

سرحد پر کھڑا سپاہی دشمن کی گولی کا سامنا کرتا ہے، مگر معاشرے کے اندر ایک اور طرح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ جہالت،........

© Daily Urdu (Blogs)