Agar Karbala Na Hoti To?
اگر کربلا نہ ہوتی تو؟
اگر کربلا نہ ہوتی تو شاید تاریخ آج بھی طاقت کے قدموں میں بیٹھی ہوتی، شاید ظلم کو حق اور اقتدار کو سچ سمجھ لیا جاتا، شاید ضمیر کی آواز درباروں کی چاپلوسی میں گم ہو جاتی اور شاید انسان یہ بھول جاتا کہ کبھی کبھی چند بے سروسامان لوگ بھی پوری انسانیت کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ لیکن کربلا ہوئی اور ایسی ہوئی کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی وقت کے ایوانوں میں اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ محرم کا یہ مہینہ ہمارے لیے صرف چند رسومات، چند اجتماعات اور چند جذباتی لمحات کا نام ہے یا پھر یہ ہمارے اندر سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے بھی آتا ہے؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ پیغام، ایک مسلسل سوال اور ایک ابدی دعوتِ فکر ہے۔
کربلا کو اگر صرف ایک جنگ سمجھ لیا جائے تو اس کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے، حالانکہ یہ دراصل اسلام کی اخلاقی روح، انسانی آزادی اور حق و باطل کی ازلی کشمکش کی سب سے روشن مثال ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے حکومت کے لیے نہیں بلکہ دینِ محمدی ﷺ کی بقا اور اس کے اخلاقی اصولوں کی حفاظت کے لیے قربانی دی۔ ان کا مقصد حکومت لینا نہیں، بلکہ امت کو یہ بتانا تھا کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا دو افراد کی جنگ نہیں تھی، بلکہ دو فکر، دو راستوں اور دو نظریات کا تصادم تھی۔ ایک طرف وہ سوچ تھی جو اقتدار کو ہر قیمت پر بچانا چاہتی تھی اور دوسری طرف وہ فکر تھی........
