menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shaukat Khanum Cancer Hospital Karachi

22 0
25.10.2026

شوکت خانم کینسر ہسپتال کراچی

کسی شخص کے انجام دیے گئے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا اور غور بھی کرنا چاہیئے کہ اس کی کوششوں سے عام لوگوں کو کیا فائدہ پہنچا اور معاشرے میں کون سی مثبت روایت قائم ہوئی۔ عمران خان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، لیکن شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قیام اور اس فلاحی مشن کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا ذکر کیے بغیر ان کی خدمات کا جائزہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

میرا ماننا ہے کہ شوکت خانم کا معاملہ محض ایک ہسپتال کے قیام کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے جذبے کو عملی شکل دینے کی کوشش تھی اور ہے جس کے پیچھے یہ احساس موجود تھا کہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا کسی غریب انسان کو صرف اس لیے علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے کہ اس کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہیں۔ لاہور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کا قیام، پھر پشاور میں اس مشن کو آگے بڑھانا اور اب کراچی میں اس منصوبے کی تکمیل کی کوشش، اسی فلاحی سفر کے مختلف مراحل ہیں۔

عمران خان کی اس کوشش کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں عوام اور مخیر حضرات کے تعاون کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کسی بڑے فلاحی ادارے کے قیام کے لیے محض ایک شخص کا عزم کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے وسائل، مسلسل محنت اور لوگوں کا اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔ شوکت خانم کا تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ جب کسی مقصد کے لیے عوام ساتھ کھڑے ہوں تو........

© Daily Urdu (Blogs)