menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qabil e Eteraz

22 0
20.08.2026

قابلِ اعتراض وہ عظیم کتاب ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتیں، پڑھی جانے کے بعد آدمی کے اندر کہیں ٹھہر جاتی ہیں۔ ایک طرف دھندلا سا معاشرہ ہو اور وہاں ایسے قلم کار جو معاشرے کو سوال کرنے کا ہنر سکھاتا ہو۔ ایسی کتابیں ایک بامقصد معاشرہ تشکیل دینے میں مدد دیتی ہے۔ کتاب کا نام پڑھتے ہی ایک سوال ذہن میں آتا ہے آخر قابلِ اعتراض کیا ہے؟ کتاب، اس کے موضوعات، مصنف، یا وہ سوالات جنہیں ہم نے برسوں سے معاشرے کے ممنوعہ حصے میں دھکیل رکھا ہے؟ کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ شاید کتاب سے زیادہ ہمارا اجتماعی رویہ قابلِ اعتراض ہے۔

حاشر صاحب نے ان موضوعات پر قلم اٹھایا ہے جن پر ہمارے معاشرے میں بات کرنا اکثر گستاخی، سوال کرنا بغاوت اور اختلاف کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خاموش رہنے کو شرافت، سوال نہ کرنے کو عقلمندی اور ہر رائج روایت کو سچ سمجھ لینے کو ایمان داری تصور کیا جائے، وہاں کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ پوچھے کہ کیوں؟ تو مسئلہ اس سوال کا نہیں رہتا سوال کرنے والے کا بن جاتا ہے۔ یہی جرم اس کتاب میں بار بار ملتے ہیں۔

کتاب کی اشاعت کے کچھ دن بعد حاشر صاحب کی فیس بک وال سے معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک بار پھر "مجرم" بننے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس مرتبہ جرم کا نام بھی ایسا رکھا ہے کہ نام پڑھتے ہی ہمارے معاشرے کے کئی حساس اعصاب حرکت میں آ سکتے ہیں "قابلِ اعتراض"۔

ہم نے سوچا، جب کتاب کا نام ہی قابلِ اعتراض ہے تو ذرا اس جرم کا مطالعہ بھی کیا جائے۔ حاشر صاحب سے کتاب کے حصول کا طریقہ پوچھا مطلوبہ چیزیں نوٹ کیں اور چند دن بعد یہ "قابلِ اعتراض" کتاب ہمارے ہاتھ میں تھی۔ ہم نے بھی اسے رفتہ رفتہ پڑھنا شروع کیا، مگر چند صفحات کے بعد محسوس ہوا کہ ہم کتاب نہیں پڑھ رہے بلکہ کتاب ہمیں پڑھ رہی ہے۔ یہی شاید اس کتاب کی اصل خوبی ہے۔

حاشر صاحب ذاتی زندگی سے اجتماعی زندگی تک ایسے موضوعات کو چھوتے ہیں جو بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں مگر غور کیا جائے تو سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی کیسی ہونی چاہیے؟ کامیاب زندگی کے لیے کون سی عادات ضروری ہیں؟ ذاتی حقوق کیا ہیں؟ حقوق الناس کی حقیقت کیا ہے؟ مرد اور عورت کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟ غریب........

© Daily Urdu (Blogs)