Molana Fazal Ur Rehman Par Sahulat Kari Ka Ilzam
مولانا فضل الرحمٰن پر سہولت کاری کا الزام
سوشل میڈیا پر چند ایسی تحریریں نظر سے گزریں جن میں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو افغانستان کے سفارت خانے میں منعقدہ تقریب میں شرکت اور مبارک باد دینے کی بنیاد پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر "خوارج کی سہولت کاری" کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ مولانا صاحب پر اس نوعیت کے الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں۔ مولانا صاحب سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی سیاسی اختلاف کو اس قدر سنگین الزام تک پہنچا دینا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ یہ بھی تسلیم کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ ملوث ہیں اور افغان حکومت کا ان عناصر کے حوالے سے طرزِ عمل پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
افغان حکومت کو اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کی مصلحت نہیں برتنی چاہیے، لیکن ان تمام حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ نتیجہ نکالنا کہ افغانستان کے سفارتی نمائندوں سے ملاقات کرنے یا افغانستان کی کسی تقریب میں شرکت کرنے کا مطلب "خوارج کا سہولت کار" ہونا ہے، انتہائی کمزور اور غیر منطقی استدلال ہے۔ کسی ملک کے نمائندوں سے ملنا یا ان کے خلاف سخت زبان استعمال نہ کرنا ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ کسی دہشت گرد گروہ کی........
