menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zamana Tumhe Yaad Rakhega

24 5
16.01.2026

معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور ہر فرد اپنی سوچ، عمل، کردار اور رویے سے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بطور فرد اس معاشرے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم صرف شکایت کرنے والے بن چکے ہیں یا ہم نے بہتری کے لیے کوئی مثبت قدم بھی اٹھایا ہے؟ ہم اکثر صرف شکوہ کرتے ہیں۔ ہم نظام، حالات، ادارے، سیاستدان، نصاب، معیشت، اخلاقیات، غرض ہر چیز پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن خود اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں کہ کوئی اور آئے گا، حالات بدلے گا، اصلاح کرے گا۔ مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ معاشرے کی بہتری کا سفر فرد سے شروع ہوتا ہے۔

آج ہم بے شمار مسائل کا شکار ہیں: بدعنوانی، عدم برداشت، مہنگائی، تعلیم کی کمی اور سماجی ناانصافی۔ ہر شخص ان مسائل پر بات کرتا ہے، تنقید کرتا ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹس کرتا ہے، مگر عملی کردار ادا کرنے سے کتراتا ہے۔ معاشرتی اصلاح صرف حکومت یا ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ماحول بہتر ہو، تو ہمیں خود کو بہتر بنانا ہوگا۔ -کیا ہم نے کبھی کسی غریب بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھایا؟ کیا ہم نے کسی بیمار کا علاج کروانے میں مدد دی؟ کیا ہم نے اپنے رویے سے کسی کو تکلیف دینے کے بجائے سہارا دیا؟ کیا ہم نے اپنے اردگرد پھیلے تعصب، نفرت اور جھوٹ کے خلاف آواز بلند کی؟

ہم دوسروں سے........

© Daily Urdu (Blogs)