menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

  بنگلہ دیش میں دس روز           (قسط  3)

15 0
31.12.2025

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

لاہور میں جب طلبہ پنجابی لہجے میں غالب کا شعر سناتے ہیں تو ہمیں ان کی ادائے شعر کی معصومیت پر بہت پیار آتا ہے۔ ڈھاکا یونی ورسٹی میں شعبہ اردو کی طالبہ نے جب یہ شعر بنگالی لہجے میں پڑھا تو ہمارے دل میں شفقت کے دوگونہ احساسات پیدا ہوئے۔ ہم نے اس سے یہ شعر مکرر سنانے کی فرمائش کی۔ جب وہ شعر پڑھ رہی تھی تو اس سے زیادہ، اس کے استادِ گرامی، داد طلب نگاہوں سے ہماری جانب دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ان کی شاگرد کو تلمیذِ غالب کا مصرع سنایا: شاباش تجھے اور تیرے استاد کو شاباش!! اور یوں ایک مصرعے سے دونوں کو رضامند کر لیا۔

میٹا نے جدید چینی اے آئی ایجنٹ Manus خریدنے کا معاہدہ کر لیا

آج ہم ڈھاکا یونی ورسٹی آئے ہیں یہ سو سال پرانی یونی ورسٹی ہے اور اس کے اکثر شعبوں کی عمارتیں کہن سالی کا افسانہ سنا رہی ہیں۔ کہیں کہیں اہلِ نظر نے تازہ بستیاں بھی آباد کی ہیں۔ ہمارے استقبال کے لیے خضر کی صورت ایک بزرگ آتے دکھائی دیئے۔ یہ غلام ربانی صاحب تھے، شعبہ اردو کے ایک متحرک استاد۔ کچھ ہی دیر میں یہ عقدہ کھلا کہ ریش مبارک کی سفیدی کی وجہ سے ہم جنہیں بزرگِ باراں دیدہ خیال کر رہے تھے، وہ حقیقت میں جوانِ رعنا ہیں۔ بعد میں جب انہوں نے گنگنا کر ایک بنگالی گیت سنایا تو ان کی ”جوانی دیوانی“ مسلمہ ہو گئی۔

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟

آج کل اردو کے صدرِ شعبہ غلام مولا ہیں۔ ان کا نام ”ہرفن مولا“ ہونا چاہیے تھا۔ مولا قسم طرح دارہیں۔ ان کے بانکپن میں دل کشی ہے۔ آواز میں نغمگی ہے۔ فنِ موسیقی سے آشنا ہیں۔ میز کو طبلے کی طرح بچاتے ہوئے انہوں نے لہک لہک اردو اور بنگالی گیت سنائے تو ہم بھی جھوم اٹھے۔ بنگالی گیت کے الفاظ سمجھ میں نہیں آ رہے تھے لیکن اس کے معانی دل پر نقش ہو رہے تھے:

اے نیلے........

© Daily Pakistan (Urdu)