menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

خواتین ٹیچرز ٹریننگ اداروں کی ضرورت

16 0
17.04.2026

پنجابی زبان بھی اب ایک ثروت مند زبان بنتی چلی جا رہی ہے۔ انڈیامیں دہلی سے لے کر پاکستان میں حیدرآباد(سندھ) تک بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس زبان میں تین بڑی لاجواب تصانیف موجود ہیں …… ہیروارث شاہ، سیف الملوک اور سی حرفی بنج گج از محمدبوٹا گجراتی ان تصانیف میں مشہور ہیں۔

ہیر وارث شاہ کا قصہ ”ہیررانجھا“ تو سینکڑوں برس پہلے لکھا جا چکا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں جن زبانوں اور موضوعات پر ڈاکٹریٹ (Ph.D)کی ڈگری دی جاتی ہے ان میں پنجابی زبان بھی شامل ہے۔ لیکن مقامِ تاسف ہے کہ اس زبان میں ہنوز تنقیدی موضوعات کی شدید کمی ہے۔ اردو، فارسی اور پنجابی زبانوں میں اگرچہ حروفِ ابجد تقریباً ایک ہی ہیں لیکن جس طرح اردو زبان میں متعدد موضوعات پر مقالے لکھے جاتے ہیں اس طرح کی کوئی مثال فارسی اور پنجابی زبانوں میں نہیں ملتی۔ فارسی کو تو ایران نے سنبھالا ہوا ہے لیکن پنجابی کو پنجاب نے نہیں سنبھالا…… دو پڑھے لکھے نوجوان (یا بزرگ) جن کی مادری زبان پنجابی ہوتی ہے، وہ جب آپس میں ملتے ہیں تو پنجابی کی بجائے اردو زبان میں مکالمہ کرتے ہیں۔ پنجابی کو شاید کم مرتبے کی زبان گردانا جاتا ہے۔ یہ روش  قابلِ تحسین نہیں اور اسے ترک کرنا چاہیے۔ اس سے اردو زبان کی تو کوئی زیادہ خدمت نہیں ہوتی مگر پنجابی کا مقام و مرتبہ نہ چاہتے ہوئے بھی گر جاتا ہے۔ وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپیئر ماناجاتا ہے۔ لیکن شیکسپیئرنے ایک سے زیادہ کتابیں انگریزی زبان میں لکھیں جن میں قصے، کہانیاں، ناول اور ڈرامے شامل ہیں …… لیکن پنجابی زبان میں ایسا کلچر ہنوز نظر نہیں آتا۔

شیخ عبدالعزیز بیرسٹر ایٹ لاء نے ”ہیراز سید وارث شاہ“ لکھی جو 2005ء میں الفیصل تاجرانِ کتب، اردو بازار لاہور نے طبع کی۔ یہ وارث شاہ کی ہیر پر ایک ”گرانقدر تبصراتی مطالعہ“ ہے۔ 

مجھے ذاتی طور پر ہیررانجھا کے قصے سے اس لئے بھی دلچسپی ہے کہ مسجد کے جس حجرے میں سید وارث شاہ نے ’ہیر‘ لکھی، اس میں میری پیدائش ہوئی۔ اب یہ جگہ جامع مسجد، ملکہ ہانس کے نام سے مشہور ہے۔ ملکہ ہانس سے پاک پتن کا فاصلہ نو میل ہے۔ ملکہ ہانس میں ہماری تھوڑی سی زمین تھی اور والد مرحوم بھی وہاں ایک سکول میں، سکول ماسٹر تھے۔ بعد میں وہ ٹرانسفر ہو کر پاک پتن چلے گئے اور وہیں ڈسٹرکٹ بورڈ مڈل سکول میں ہیڈماسٹر کے درجے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کو ہیروارث شاہ والی تصنیف سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ جس مسجد کے حجرے میں میری پیدائش ہوئی  اس میں حضرت وارث شاہ نے یہ تصنیف  قلمبند کی تھی۔

یہ داستان بھی مشہور ہے کہ وارث شاہ صاحب کو گاؤں کی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی تھی جس کا نام ”بھاگ بھری“ تھا۔ جب یہ ”عشق“ پروان کی منزلوں تک پہنچنے لگا تو بھاگ بھری کے بھائیوں کو خبر ہو گئی۔ انہوں نے انتقاماً وارث شاہ کی خوب ”خبر“ لی۔ یہ سب واقعہ ملکہ ہانس کے مکینوں کو نسل در نسل آج تک معلوم اور یاد ہے۔

”ہیر“ نامی کتاب کے متن کی صحت جانچنے کے لئے ان الفاظ کے مطالب کاکھوج لگانا ضروری ہے جو اس نظم میں استعمال ہوئے ہیں اور پھروارث شاہ کے دور میں بھی مستعمل تھے۔ اب کئی جگہ ہیر کے ایک نسخے میں ایک لفظ ہوتا ہے اور دوسرے میں کوئی اور…… بعض نسخوں کی لکھائی بھی صاف نہیں اور پنجابی زبان میں تو اردو، فارسی اور عربی کی طرح ایک نقطہ یا ”ڈنڈا“ پڑنے یا نہ پڑنے سے یا مختلف انداز سے الفاظ لکھنے سے معنی بدل جاتے ہیں۔ پنجابی زبان کی کوئی اچھی لغت بھی ان ایام میں موجود نہ تھی(اور نہ اب ہے)…… اور وارث شاہ کے دور میں اس طرح کی لغت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

گزشتہ ہفتے کافی عرصے کے بعد پاک پتن جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ہمراہ ایک بیٹی اور اس کا شوہر بھی تھا۔ جب ہم ساہیوال سے پاک پتن جانے والی سڑک پر چڑھے تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔ ساری سڑک دو رویہ ہو چکی تھی،سارے گاؤں اور قصبے جو راستے میں آتے تھے، وہی تھے لیکن ان کے ناموں کے بورڈ اور زمینی تختیاں ہر کلومیٹر کے بعد جلی انداز میں نصب کر دی گئی تھیں۔ اس دہری سڑک کے بیچوں بیچ ایک فٹ عرض کا تقسیم کار (Bifurcater)بھی بنا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خاص حد تک آسانی پیدا ہو گئی تھی۔میں تقریباً 15،20برس بعد اس سڑک پر جا رہا تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف میں پہلے ہل چلاتے ہوئے جو کسان اپنے بیلوں کو ہانکتے دکھائی اور سنائی دیتے تھے، ان کی جگہ اب ٹریکٹروں اور دوسرے مشینی زرعی آلات نے لے لی تھی۔ جگہ جگہ غلے کے گودام تعمیر کر دیئے گئے تھے…… یہ سب مناظر میرے لئے ایک خوشگوار حیرت کا سبب تھے۔

اسی دو رویہ سڑک پرملکہ ہانس کا قصبہ بھی نزدیک آنے لگا تو میں نے گاڑی میں بیٹھے اپنے بچوں کو بتایا کہ ملکہ ہانس میری جنم بھومی بھی ہے اور اس کی دوسری وجہِ شہرت یہ ہے کہ اس قصبے کی ایک مسجد میں بیٹھ کر سید وارث شاہ نے وہ ہیر لکھی تھی جو آج پنجاب کے ہر شہر اور قصبے میں پڑھی اور پنجابی زبان و ادب کے ضمن میں پڑھائی جاتی ہے…… یہ سب  سن کر بچے بضد ہوئے کہ یہ جگہ ان کو ضرور دکھائی جائے۔ میں نے کہاکہ ایک گاؤں دیکھ کر کیا کرو گے؟…… پاکستان کے دوسرے دیہاتی علاقوں کی طرح ملکہ ہانس بھی ایک دیہاتی علاقہ ہے …… لیکن بچے جب اصرار کرنے لگے تو میں نے گاڑی ملکہ ہانس کے اندر جانے والی سڑک کی طرف موڑ دی……

اللہ اللہ! کیا عجیب منظر تھا!! …… صرف دس پندرہ برس کے عرصے میں ہر چیز بدل چکی تھی۔ بیل گاڑیوں کی جگہ ہر طرف ٹریکٹر آ جا رہے تھے اور کھیتوں میں دور دور تک کوئی بیل یا گائے وغیرہ نظر نہیں آتی تھی۔ البتہ سڑک کنارے جا بجا پرائمری اور مڈل سکولوں کے بورڈ نظر آ رہے تھے جو میری خوشی اور حیرت میں اضافہ کررہے تھے۔ جس جگہ لڑکوں کے سکول تھے وہیں لڑکیوں کے سکولوں کے بورڈ بھی تھے اور جب زیادہ آگے بڑھے تو سکولوں میں چھٹی کا وقت ہو رہا تھا۔ یہ منظربھی اس لئے دیدنی تھا کہ سکول سے نکلنے والی بچیوں کی تعداد بچوں سے زیادہ تھی!…… زیادہ تر بچیاں اپنے والد یا بھائی کے ساتھ موٹرسائیکلوں کی عقبی نشستوں پر بیٹھی تھیں۔ ایک دو جگہ تو ایسی لڑکیاں بھی نظر آئیں جو ”زنانہ موٹرسائیکلوں“ پر سوار تھیں۔یہ منظر اب نہ صرف پاکستان کے شہری علاقوں میں نظر آتا ہے بلکہ اکّا دکّا دیہاتوں کی پگڈنڈیوں پر بھی دکھائی دیتا ہے۔یہ انقلاب آنے والی نوجوان نسل کی ٹیکنالوجی سے محبت کا گویا آغاز ہے۔ پنجاب بلکہ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں یہ ”زنانہ موٹرسائیکل“ اب عام نظر آنے لگے ہیں۔ میں چشمِ تصور میں مستقبل قریب میں ان موٹرسائیکلوں پر ”زنانہ سواریوں“ کا جمِ غفیر دیکھ رہا تھا۔ انڈیا میں تو یہ انقلاب ہم سے پہلے آچکا ہے اور اب پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی سکول انتظامیہ کو ”زنانہ موٹرسائیکل سٹینڈ“ مختص کرنے پڑیں گے۔ مخلوط تعلیم کا رواج مستقبل کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔ اس کا آغاز شاید شہروں کی بجائے دیہاتوں سے ہو۔پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں گرلز سکولوں کی تعداد روز افزوں ہے اس لئے اب حکومت کو ٹیچنگ سٹاف کے لئے ”خواتین ٹریننگ سکولز اینڈ کالجز“ کا اہتمام کرنے کی فکر کرنا چاہیے۔


© Daily Pakistan (Urdu)