menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امر جلیل

13 0
latest

جب تک پھر سے نیا شوشہ چھوڑ کر پھر سے ازسر نو آپ کے اوسان خطا کردیئے جائیں، سردست آپ کو صوبوں میں نئے صوبے بنانے والی بات پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ آپ فکر مت کریں۔ نئے شوشوں کی کھچڑی تیار ہورہی ہے۔ عنقریب آپ کو پیپرمیش کی پلیٹوں میں کھانے کیلئے دی جائیگی۔ نئی کھچڑی کھا کر آپ آٹے چاول کا بھاؤ بھول جائینگے۔ فی الحال آپ تقسیم ہند کے ٹکر کی مہم جوئی کی باتوں میں سر کھپاتے رہیں۔ میری عمر کے ایک بڈھے کھوسٹ نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو آنکھیں  دکھاتے ہوئے پوچھا تھا، ’’اگر ہندوستان کا بٹوارا ہوسکتا ہے، تو پھر بالشت بھر صوبوں کا بٹوارا کیوں نہیں ہوسکتا؟ کان کھول کر سن لو۔ ہمارے آباو اجداد نے ہندوستان کا بٹوارا ممکن بنایا تھا۔ ہم صوبوں کا بٹوارا ممکن بنائیں گے۔ پاکستان کی پاک دھرتی سے صوبائیت کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے‘‘۔

بے سود باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں صوبوں میں بٹوارے کی مفید باتیں کرنی چاہئیں۔ پرانے اور مجوزہ نئے صوبوں کے درمیان کیا کیا بٹنے جارہاہے۔؟ سوچنے اور سمجھنے کی باتیں ہیں۔

ہمارے صوبوں کے پاس حیران کن آثارِ قدیمہ ہیں آج کل کے جدید دور میں ہمارے ہاں بغیر ڈھکن والے گٹروں میں گر کر ہمارے بچے غائب ہوجاتے ہیں اگر کبھی مل جائیں تو مرے ہوئے ملتے ہیں ایسی ناگہانی اموات کی ذمہ داری یعنی رسپانسبلیٹی کوئی صوبائی حکومت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ یہ کہہ کر اپنی چُنری پہ داغ لگنے نہیں دیتے کہ قصور ڈھکن اور بغیر ڈھکن والے گٹروں کا نہیں ہے۔ جس کی جیسی موت لکھی ہوئی ہوتی ہے، عین اسی طرح عمل میں آتی ہے۔ پاکستان میں  کروڑوں بچے سڑکوں اور گلی کوچوں  میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ وہ بغیر ڈھکن کے گٹروں میں گر کر نہیں مرتے،۔ وہ ٹینکروں، ٹرکوں اور ڈمپروں کے پہیوں تلے اکر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں ۔بہرحال، پرانے اور وجود میں آنے والے نئے صوبوں کے درمیان بغیر ڈھکن کے گٹروں کا بٹوارا ضرور ہوگا۔ یہ طے ہوچکا ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ پرانے صوبے کتنے فی صد بغیر ڈھکن کے گٹر اپنے پاس رکھتے ہیں اور کتنے فیصد بغیر ڈھکن کے گٹر وجود میں آنے والے نئے صوبوں کے حوالے کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ عنقریب ٹوٹنے والے صوبوں کے پاس اچھنبے میں ڈال دینے والی باتیں ہیں جن کا دیانتداری سے بٹوارا ہوناہے۔ لوگ بڑے جذباتی ہیں میں کسی صوبے کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا ۔چار صوبوں میں سے ہمار ایک صوبہ ہے ۔ اس صوبے میں آپ اپنی پسند ، اپنی چاہت سے شادی نہیں کرسکتے ۔ یعنی، اس صوبے میں آپ Love Marriage نہیں کرسکتے ۔ یہ کوئی سرکاری بندش نہیں ہے۔ معاشرے کے کرتا دھرتا لو میرج کو بہت برا سمجھتے ہیں ۔اس جرم کے لئے معاشرے نے دلہن اور دولہے کے لئے موت کی سزا مقرر کررکھی ہے کوئی دن نہیں گزر تا جب اپنی پسند سے شادی کرنے والے جوڑے یعنی دولہا دلہن کو مار دیا جاتا ہے اب دیکھنا ہے کہ بڑے صوبوں کے بچوں یعنی جنم لینےوالے نئے صوبوں میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کا بٹوارا کس حساب کتاب سے کیا جاتاہے۔ اصل میں معاملہ ہے پیار کی شادی کرنے والے جوڑوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا۔ وجود میں........

© Daily Jang