عطا ء الحق قاسمی
جب میں نے اپنی گاڑی مزنگ چونگی سے جیل روڈ پر ڈالی تو اچانک مجھے ایک خوفناک بارن سنائی دیا اور پھر یوں لگا جیسے کسی نے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا ہے میں قدرے گھبرا گیا، میں سمجھا شاید مجھ سے بلنڈر ہو گیا ہے جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے، میں نے دائیں بائیں آگے پیچھے دیکھا لیکن سوائے ایک گاڑی کے جو مجھ سے کافی فاصلے پر تھی ، مجھے کوئی ٹریفک نظر نہیں آئی، اس کے باوجود میں نے سوچا اس گاڑی کو گزرنے دینا چاہیے چنانچہ میں نے گاڑی آہستہ کر دی اور بائیں لین میں آ گیا، میرے پیچھے آنیوالی گاڑی نے مجھے اوور ٹیک کیا اس میں ایک صاحب قسم کا دیسی بابا اور ایک میم قسم کی دیسی مائی بیٹھی ہوئی تھی۔ میرے راستہ دینے کے باوجود بابا مسلسل بارن بجائے جا رہا تھا، میں نے قیاس کیا کہ بابا اپنی مائی کو خوش کرنے کیلئے ہارن بجا رہا ہے، لیکن مائی کے کھنچے ہوئے چہرے سے لگا کہ اسے ہارن بجنے پر کوئی خوشی نہیں ہو رہی ۔ دریں اثنا بابے نے تھوڑی دیر کیلئے ہارن سے ہاتھ اٹھا لیا ، اس سے مجھے تسلی ہوئی کہ ہارن میں کوئی خرابی نہیں، اگر کوئی خرابی ہے تو وہ بابے میں ہے۔اس وقت سڑک پر بہت معمولی ٹریفک تھا۔ میرے پیچھے تو پھر بھی دو ایک گاڑیاں تھیں جبکہ بابے کے سامنے سڑک خالی پڑی تھی ، بابے نے ایک دفعہ پھر ہارن پر ہاتھ رکھ دیا ، وہ غالبا سٹرک کو سامنے سے ہٹنے کیلئے کہہ رہا تھا، خدا کا شکر ہے کہ سڑک نے اسکا کہا نہیں مانا، کیونکہ سڑک اگر تعمیل ارشاد پر اتر آتی تو بابا بابی تو اپنے وقت پر اسکی آغوش میں جا گرتے جبکہ میرے بارے میں شائع ہونیوالے تعزیتی بیان’ بے وقت موت کے الفاظ سے شروع ہوتے !‘
سڑک نے جب بابے کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو بابے نے ہارن پر سے ہاتھ اٹھا لیا۔ مجھے اس عجیب و غریب مخلوق سے کچھ دلچسپی سی پیدا ہو گئی تھی اور اب میں اسے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا چنانچہ میں نے گاڑی قدرے تیز کی اور پھر اس کے برابر میں لا کر اس کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیا۔ میں گاڑی کے چونکہ بائیں جانب تھا، اس لیے بابے کی بجائے مائی صاحبہ میری نظروں کی زد پر تھیں۔بابے نے ہارن بجا کر اسے غالباً ایک دفعہ پھر خوش کرنا چاہالیکن مائی نے ان طفل تسلیوں سے خوش ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ اب اس نے سامنے کی بجائے سوجےہوئے منہ کو میری طرف پھیرلیا مجھےدیکھ کر مائی کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ ابھری یہ مسکراہٹ اتنی خوفناک اورخطرناک تھی کہ میں نے ڈر کر گاڑی تیز کر دی اور بابے کے سامنے آگیا۔ اب بابے کی گاڑی میرے پیچھے تھی اور میں نےرفتار جان بوجھ کر کافی کم کردی تھی ۔میں چاہتا تھا کہ بابے کو ایک دفعہ جائز طور پر ہارن بجانے کا موقع ملے اور میں اس کے جواب میں اس کے لیے راستہ چھوڑ دوں مگر لگتا تھا جیسے بابے کو سکون سا آ گیا ہے میں نے گاڑی کی رفتار اور کم کردی، بابا بھی اسی نسبت سے آہستہ ہو گیا ، نہ وہ لین بدل رہا تھا اور نہ ہارن بجا رہا تھا ۔، میں نے تنگ آکر اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔جب بابے نے سڑک خالی دیکھی تو اس نے ایک دفعہ پھر ہارن بجانا شروع کر دیا میں نے سوچا یہ دیکھنے میں بالکل نارمل خاصا معتبر سا لگتا ہے لیکن اسکی دماغ کی ساری چولیں مکمل طور پر ڈھیلی ہیں، میں نے سوچا مجھے اس سے بات کرنی چاہیے، چنانچہ گاڑی سرخ سگنل پر رکی اور میں اسکی طرف جانے کیلئے ابھی دروازہ کھول ہی رہا تھا کہ ایک گاڑی بالکل میرے برابر........
