menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

شیخ عبدالرشید

26 0
24.05.2026

جرمن فلاسفر ہیگل نے کہا تھا کہ ’’تاریخ سے ہمیں صرف یہی ایک سبق ملتا ہے کہ قوموں اور حکومتوں نے تاریخ سے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘‘یہ قول آج ہماری قومی زندگی، سیاسی رویوں اور اِدارہ جاتی طرزِ عمل پر کسی پیہم تازیانے کی طرح برستا محسوس ہوتا ہے۔ تاریخ محض قبرستان نہیں ہوتی،یہ ایک زندہ جاوید عدالت ہے جسکے فیصلے اٹل اور بے رحم ہوتے ہیں۔ جو قومیں اس عدالت کے فیصلوں سے آنکھیں چراتی ہیں وقت انہیں عبرت کی ایسی تاریک گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تاریخ کو صرف رومانوی داستانوں اور فتوحات کے قصوں تک محدود کر کے ایک افیون بنا دیا ہے۔ عمرانیات کے مسلمہ اصولوں کے مطابق، معاشروں کی بقا کا دارومدار ان کے اجتماعی حافظے پر ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنی فکری، سیاسی اور انتظامی ناکامیوں کو یاد رکھتی ہیں، وہ دوبارہ اسی سوراخ سے نہیں ڈسی جاتیں۔ مگر ہم ہر عشرے بعد اسی پرانے بحران کا نیا روپ دیکھتے ہیں اور اس کا علاج بھی وہی تجویز کرتے ہیں جو پہلے کئی بار ناکام ہو چکا ہوتا ہے۔ معاشی خود انحصاری کے بجائے ادھار پر انحصار، داخلی پیداوار بڑھانے کے بجائے کشکول کا پھیلاؤ، اور اداروں کی مضبوطی کے بجائے شخصیات کی پوجا، یہ وہ تاریخی مغالطے ہیں جنہوں نے ہمیں ایک دائرے کا مسافر بنا دیاہے۔ ہم تاریخ کی کتاب کو کھولتے تو ہیں، مگر صرف اپنی پسند کے ابواب پڑھنےکیلئے، اور عبرت کے وہ صفحات جو ہمیں ہماری کوتاہیوں کا آئینہ دکھاتے ہیں، ہم نے انہیں تعصب، انا اور مصلحت پسندی کی گوند سے مستقل بند کر رکھا ہے۔ ریاست کا زوال کبھی یکدم بیرونی حملے سے نہیں ہوتا، بلکہ زوال ہمیشہ اندر سے جنم لیتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں عدل کا ترازو طاقتور کے حق میں جھک جائے، میرٹ کی جگہ من پسند افراد کی سرپرستی لے لے، اور سیاسی و اِدارہ جاتی سمجھوتہ ریاست کی بنیادی ثقافت بن جائے، تو بڑی سے بڑی سلطنتیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔سیاسی اور عمرانی تجزیے ثابت کرتے ہیں کہ ایسے فکری و انتظامی بحرانوں کی اصل ذمہ داری معاشرے کے عام شہری پر نہیں، بلکہ ریاست کی مقتدر اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پالیسیاں اور ترجیحات مقتدرہ ہی طے کرتی ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے تمام بحرانوں کا نقصان صرف عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ مقتدر طبقے کیلئے یہ زوال بھی ایک انتہائی منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہم نے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا ایک مستقل اور مہلک شوق پال رکھا ہے۔ 1971ء کا المیہ ہماری تاریخ کا وہ بھیانک موڑ تھا جہاں ہم نے سیاسی بحران کا حل سیاسی طریقےسے نکالنے کے بجائے طاقت کےاستعمال میں ڈھونڈنا چاہا، اورنتیجتاًآدھا ملک گنوا دیا۔

پھر اسکے بعد حمود الرحمن کمیشن کی سچی اور حقیقت پسندانہ سفارشات کو تسلیم کرنے کے بجائے، ان دستاویزات کو ہمیشہ کیلئے دبا دیا۔ اسکا واضح مطلب یہ تھا کہ ہم نے عبرت کے صفحات خود اپنے ہاتھوں سے پھاڑ دیے اور یہ عہد کیا کہ ہم ماضی سے کبھی کچھ نہیں سیکھیں گے۔ نوے کی دہائی میں معاشی بدانتظامی کا جو طویل سلسلہ شروع ہوا، اسکے نتیجے میں ہم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے متعدد بار قرض لیا اور ہر بار اس وقتی امداد کو مستقل کامیابی سمجھ کر جشن منایا۔ یہ طرزِ........

© Daily Jang