سپریم کورٹ میں اسلامی قانون کا ذکر
سپریم کورٹ میں اسلامی قانون کا ذکر
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
وطنِ عزیز میں انہونیاں بھی ہوتی رہتی ہیں اور عجائباتِ قدرت دیکھنے کے وافر مواقع بھی میسر آتے رہتے ہیں۔ ان کالموں میں ہم نے پچھلے کچھ عرصے میں کیے جانے والے بہت سے عدالتی فیصلوں پر تنقید کی جن میں نکاح و طلاق جیسے حساس مسائل میں اسلامی قانون کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ فوجداری مقدمات، تجارتی اور مالیاتی امور سے متعلق مقدمات اور ٹیکس و محصولات کے مقدمات میں تو ویسے بھی شاذ ہی کوئی اسلامی قانون کا نام لیتا ہے۔ اس ماحول میں جب اچانک ہی سپریم کورٹ کا حکمنامہ سامنے آیا جس میں قرار دیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے جاری کردہ احکامات سے ’’اسلامی قانون کے اصولوں‘‘ کے حوالے سے بھی کئی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں، تو بے حد خوشی ہوئی۔ کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ 18 اگست کو عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کیے جانے کے متعلق فوجداری اپیل کی سماعت میں سپریم کورٹ نے طبی سہولیات دینے کے متعلق احکامات جاری کییتھے اور اگلی سماعت کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ عدالتی حکمنامے میں ہی مقرر کردی تھی۔ ان احکامات پر عمل نہیں ہوا، تو اس پر توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کردی گئی۔اس دوران میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت وجود میں لائی گئی وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے مقدمے کا سارا ریکارڈ منگوا لیا۔تاہم اس کے باوجود 16 ستمبر کو سپریم کورٹ نے عدالتی حکم میں مقررہ تاریخ پر سماعت کی۔خبروں کے مطابق جب اٹارنی جنرل کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ آئینی سوالات صرف وفاقی آئینی عدالت ہی دیکھ سکتی ہے، تو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ........
