ترکیہ: ایردوان کی آق پارٹی کے پچیس برس
ترکیہ: ایردوان کی آق پارٹی کے پچیس برس
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے نیشنز گارڈن (ملت باہچیسی) میں جب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، تو ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سٹیج پر نمودار ہوئے۔ پچیس برسوں کے طویل اور کٹھن سیاسی سفر کی تھکن ان کے قدموں سے جھلک رہی تھی اور وہ شاید اب اس تیز رفتاری اور جوش کے ساتھ نہیں چل پا رہے تھے ، لیکن مائیک سنبھالتے ہی ان کی آواز میں وہی پرانی گرج اور جادوئی للکار تھی جس نے سامنے موجود لاکھوں انسانوں کے سمندر کو مسحور کر کے رکھ دیا۔ انہوں نے اپنے اسی پرجوش اور سحر انگیز انداز میں عوام کو 2003 سے پہلے کے اس تاریک، شکستہ حال اور بے بس ترکیہ کی یاد دلائی جو سیاسی انتشار، معاشی دیوالیہ پن اور فوجی تسلط کے بوجھ تلے سسک رہا تھا۔ انہوں نے ہجوم کو یاد دلایا کہ کس طرح ان کی پارٹی کی آمد نے اس قوم کے مقدر کو بدل کر رکھ دیا اور ترکیہ کو بحرانوں کی دلدل سے نکال کر عالمی وقار کی بلندیوں تک پہنچایا۔ یہ جلسہ برسر اقتدار انصاف و ترقی پارٹی جسے عرف عام میں آق پارٹی کہتے ہیں، کے 25سال مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کیا گیا تھا۔ کثیر الجماعتی اور مسابقت والے جمہوری نظام میں کسی سیاسی جماعت کا مسلسل اتنے طویل عرصے تک حکمران رہنا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ 14 اگست ، 2001 کو وجود میں آئی اس نومولود سیاسی جماعت کو ملکی سیاست کے افق پر ابھرنے اور عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے لیے محض پندرہ ماہ کا مختصر ترین وقت درکار ہوا۔ یہ جماعت نومبر 2002 میں حکومت میں آئی اور پھر ابھی تک ایوانِ اقتدار سے باہر نہیں ہوئی ہے۔ اپنے پچیس سالہ سفر کے دوران تقریباً چوبیس برسوں تک اس نے........
