بقا کی نفسیات سے آگے
بقا کی نفسیات سے آگے
پاکستان 79 برس کا ہو گیا ہے۔ اس عمر میں کسی فرد سے پوچھا جائے کہ اس نے زندگی میں کیا پایا تو شاید وہ اپنی کامیابیوں کی فہرست گنوائے، مگر قوموں کی عمر کا حساب کچھ مختلف ہوتا ہے۔ قوموں سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ انہوں نے کتنی مشکلیں جھیلیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان مشکلوں نے انہیں کیا بنا دیا۔ پاکستان کی کہانی میں مشکلیں کم نہیں رہیں۔ قیام کے وقت ہجرت کا المیہ سامنے تھا، پھر جنگیں آئیں، سیاسی بحران آئے، دہشت گردی نے گھیر لیا، قدرتی آفات نے بستیاں اجاڑیں، معیشت بار بار لڑکھڑائی اور اب موسمیاتی تبدیلی ایک ایسے مستقبل کی خبر دے رہی ہے جس میں غیر یقینی شاید مستقل حقیقت بن جائے۔ مگر ہر بار ایک منظر دہرایا گیا: ملک زخمی ہوا، سنبھلااور پھر اپنے کھڑا ہو گیا۔ ہماری قومی نفسیات میں ایک ایسی صفت پیدا ہوگئی ہے جس پر ہمیں فخر بھی ہے اور جس کے بارے میں اب سوچنے کی ضرورت بھی ہے: بقا۔ ہم نے زندہ رہنے کو اپنی کامیابی سمجھ لیا ہے۔ بجلی نہ ہو تو گزارا کر لیتے ہیں، مہنگائی بڑھے تو خرچ کم کر لیتے ہیں، روزگار نہ ملے تو کوئی دوسرا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں، سیلاب آئے تو خیمے لگا لیتے ہیں، شہر ڈوبیں تو چند دن بعد زندگی پھر معمول پر آ جاتی ہے۔ بحران ہمارے لیے خبر کم اور معمول زیادہ بن گئے ہیں۔ ہم نے غیر معمولی حالات کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے، یہاں تک کہ کبھی کبھی یہ........
