menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پاکستان کے مفادات پر حملہ

17 0
yesterday

پاکستان کے مفادات پر حملہ

کسی بھی ملک کے شہری کے لیے اس کا وطن اور قومی مفاد سب سے اہم ہوتے ہیں اور کسی ریاست کے لیے بھی قومی مفاد ریڈ لائن ہوتے ہیں۔دنیا کا کوئی ملک اس ریڈ لائن کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرتا۔ اپنے کسی خاص ایجنڈے اور سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے قومی مفادات پر کھیلنے والے لوگ ملک کے خیر خواہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت اس ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہوتے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے عناصر کے لیے کوئی معافی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی ایسی کئی مثالیں ہیں جن میں انہوں نے قومی مفادات اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو سخت سزائیں دیں۔ جو ممالک ہمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیکچر دیتے ہیں ان کے اپنے ممالک میں ایسے عناصر کو سمری ٹرائل کر کے سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس کی دو بڑی مثالیں امریکہ میں کیپیٹل ہل پر حملے اور برطانیہ میں فسادات میں ملوث افراد کا دنوں میں سمری ٹرائل کر کے سزائیں دینا ہے۔ 2018 سے 2022 تک پاکستان میں ایک ایسی جماعت کی حکومت آئی جس نے ہمیشہ ملکی مفاد کی بجائے اپنی ذاتی سیاست اور ذاتی ایجنڈے کو ترجیح دی۔ اس جماعت کے سربراہ نے اقتدار میں رہتے ہوئے دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب کیے۔ امریکی سازش کا ڈرامہ کر کے سائفر کے ذریعے لوگوں کو بیوقوف بنایا اور یورپی یونین کے خلاف بیانات دے کر پاکستان کے امریکہ،یورپ، چین اور مشرق وسطی کے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کیے۔ ایک ایسا وقت آیا جب پاکستان ایک دائرے میں بند ہو کر رہ گیا۔ پھر جیسے ہی اس دور کا خاتمہ ہوا تو پاکستان نے دوبارہ 2017 والے ٹریک پر سفر شروع کر دیا۔ مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی، چھ مئی سے نو مئی تک پاکستان نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ سفارتی محاذ پر وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کا بھرپور مقدمہ مضبوط کیا۔ پھر 10 مئی کی صبح پاکستان نے صرف چار گھنٹوں میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اس جنگ میں عظیم فتح پر پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نئی پہچان ملی۔دنیا کے تمام بڑے ممالک پاکستان اور اس کی طاقتور افواج کی تعریفیں کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان نے مسلسل ورکنگ کر کے یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس حاصل کیا۔ پاکستان نے یہ درجہ 2027 تک حاصل کیا۔اس سٹیٹس نے پاکستان کو یورپی یونین کی برآمدات میں 108 فیصد اضافہ کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس کے ساتھ پاکستان میں ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں کی انڈسٹری نے بھی تیزی سے بڑھوتری کرنا شروع کیا اور ہزاروں لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملے۔ یہ خوشخبری ایسے وقت میں پاکستان کو ملی جب پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی ایک سازش کی گئی تھی ۔دو روز قبل بانی پی ٹی آئی اور جمائمہ گولڈ سمتھ کے بیٹے قاسم خان نے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹ کی ایک میٹنگ میں پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔اس میں بانی پی ٹی آئی کے کزن ڈاکٹر عثمان اور بانی پی ٹی آئی کی کابینہ کے سابق رکن زلفی بخاری بھی ہاں میں ہاں ملانے میں مصروف عمل تھے۔ اسی پروگرام میں بی ایل اے کی ایک ذیلی تنظیم بی این ایم کے رہنما نسیم بلوچ بھی بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کے ساتھ بیٹھے تھے۔قاسم نے اس مذاکرے میں واحد دلیل یہ پیش کی کہ ان کا والد جیل میں ہے تو پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ قاسم خان کوشاید معلوم نہیں کہ ان کے والد جب پاکستان کے مطلق العنان بادشاہ تھے تو وہ اپنے تمام مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنا کر ان کو جیلوں میں ڈالتے رہے۔بیٹی کو باپ کے سامنے اس لیے گرفتار کیا گیا کہ باپ کو اذیت پہنچائی جائے اور توڑا جا سکے۔ رانا ثنا اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ،خواجہ آصف پر آرٹیکل چھ لگانے کی کوشش کی گئی۔پھر جب قاسمخانکے والد اقتدار سے نکلے تو انہوں نے نو مئی کی ناکام بغاوت کی۔ اپنے ہی ملک کی فوج کی تنصیبات پر حملے کیے۔ پاکستانی نوجوانوں کو اپنی ناکام بغاوت کا ایندھن بنانے کی کوشش کی۔ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے تینوں بچے سیر سپاٹے کرتے بھی نظر آئے۔ آج وہی گولڈ سمتھ فیملی پاکستان کے خلاف معاشی تخریب کاری کر رہی ہے۔یہ کام پہلے قاسم کے والد اور ان کی جماعت بھی کرتی رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو خط لکھے۔آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر کے باہر تحریک انصاف کے لوگوں نے مظاہرے کیے، پھر بھی پاکستان نے پوری طاقت کے ساتھ نئی اڑان بھری۔ آج الحمدللہ پاکستان تیزی سے اپنے معاشی اہداف حاصل کر رہا ہے اور ہر میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کی سفارتی محاذ پر کامیابیوں کے ڈنکے سرحد پار بھی گونج رہے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی، اس کی فیملی اور اس کی جماعت دن رات پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔پاکستانی قوم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اب پاکستان دوبارہ کسی بھی ایسے فتنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ جس ایجنڈے کے تحت لانچ ہوئے تھے ان کا وہ ایجنڈا نامکمل رہا ہے۔اس لیے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں لیکن ہم عوام کی طاقت کے ساتھ ان کے منفی عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری طاقت کا استعمال کریں گے۔پاکستان زندہ باد


© Daily 92 Roznama