menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پانچ جولائی 1977: تاریخ کا ...

24 0
05.07.2026

پانچ جولائی پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جو محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا اہم موڑ ہے جس نے ملک کے سیاسی، آئینی اور جمہوری سفر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ قوموں کی تاریخ میں بعض واقعات وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ وہ ہر نسل کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ریاست، آئین، اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد اور توازن کو کس طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پانچ جولائی 1977 بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ اس وقت ملک ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال سے دوچار تھا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات اور کشیدگی موجود تھی لیکن اس کے باوجود یہ امید باقی تھی کہ سیاسی بحران کا حل آئینی اور جمہوری ذرائع سے تلاش کیا جائے گا تاہم حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ جمہوری عمل منقطع ہوگیا اور پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہوا جس کے اثرات کئی برسوں تک قومی سیاست، ریاستی اداروں اور معاشرتی رویوں پر محسوس کیے گئے۔ جمہوریت کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو تصادم کے بجائے مکالمے میں تبدیل کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ پارلیمنٹ، آئین، سیاسی مذاکرات اور عوامی مینڈیٹ وہ ستون ہیں جن پر ایک مستحکم جمہوری ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ جب بھی ان ستونوں میں کمزوری آتی ہے تو اس کے اثرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لاء  نافذ کیا گیا۔ اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد حالات کو معمول پر لانا اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنا ہے، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ عبوری دور طویل ہوتا چلا گیا اور پاکستان کئی برس تک ایک مختلف سیاسی نظام کے تحت چلتا رہا۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل مضبوطی حکومتوں کی تبدیلی میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، مضبوط اداروں اور عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو قومی استحکام فروغ پاتا ہے، جبکہ سیاسی عمل میں تعطل ریاستی ارتقا کو سست کر دیتا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ان نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سیاست کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے عام آدمی کو قومی سیاست کا حصہ بنایا اور مزدور، کسان، نوجوان اور متوسط طبقے کو سیاسی عمل میں فعال کردار ادا کرنے کا احساس دلایا۔ ان کی سیاست کا بنیادی تصور یہ تھا کہ ریاست کی حقیقی طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں، اور عوام کی رائے ہی قومی فیصلوں کی بنیاد ہونی چاہیے۔ شہید بھٹو کے دور میں پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین ملا، جو آج بھی ملک کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ یہ آئین وفاق، جمہوریت، پارلیمانی نظام اور بنیادی شہری حقوق کے حوالے سے قومی اتفاقِ رائے کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی دستاویز ریاستی اداروں کے اختیارات، شہری آزادیوں اور آئینی نظم و نسق کا بنیادی حوالہ ہے۔ اسی دور میں پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ قومی دفاع کے حوالے سے جو حکمتِ عملی اختیار کی گئی، اس میں ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ بھی شامل تھا، جسے بعد ازاں پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا گیا۔ یقیناً ہر سیاسی دور کی طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت پر بھی مختلف آراء  سامنے آئیں۔ ان کی حکومت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور سیاسی اختلافات بھی موجود رہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان میں عوامی سیاست کو نئی جہت دی اور جمہوری شعور کو فروغ دینے میں........

© Nawa-i-Waqt