معاملات بالآخر 19 جون ...
طے یہ ہوا تھا کہ 19جون 2026ء بروز جمعہ امریکی نائب صدر جنیوا میں ایرانی قومی سلامتی کے سپیکر کے ساتھ بیٹھ کر ایک ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کریں گے۔ اس موقعہ پر پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بھی بطور ثالث،سہولت کار یا گواہ کی صورت وہاں موجود ہوں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوجانے کے بعد اس یادداشت میں طے کئے گئے نکات پر عمل درآمد کے لئے ا یران اور امریکہ کے وفود آئندہ 60دنوں تک مسلسل مذاکرات کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام کی راہ بنائیں گے۔ایران اور امریکہ کے مابین ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ کے حوالے سے جو طے ہوا تھا اسے امریکی صدر نے 15جون کو پیرس پہنچنے کے بعد یکسر بھلادیا۔ موصوف وہاں G-7کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ فرانس ان کا میزبان تھا۔ مذکورہ کانفرنس میں شرکت کے لئے متحدہ عرب امارات، بھارت اور مصر کے سربراہان کو بھی بطور آبزرور خصوصی طورپر مدعو کیا گیا تھا۔ ان تینوں سے ملاقاتوں کے دوران ٹرمپ کو احساس ہوا کہ امریکہ ’’تاریخ ساز‘‘ معاہدے کی جانب بڑھ رہا ہے اور ٹرمپ کو ’’تاریخ‘‘ میں نام لکھوانے کا جنون لاحق ہے۔ٹرمپ کی تاریخ سے محبت کی شدت سے نآشنا فرانسیسی صدر نے موصوف کو پیرس کے نواح میں واقع وخسائی محل بلالیا۔ انگریزی میں اسے "Versailles" لکھا جاتا ہے۔ فرانسیسی مگر انگریزی حرف (R)کو اردو حرف (ر)کی طرح ادا نہیں کرتے۔ اردو حرف(خ) کی طرح بولتے ہیں۔ وخسائی کے عظیم الشان محل میں لاہور کے شاہی قلعہ میں تعمیر ہوئے شیش محل جیسا ایک ہال بھی ہے۔ وہاں فرانسیسی صدر نے امریکی صدر کو کھانے کے لئے مدعو کیا۔ کھانے کے دوران ٹرمپ کو معلوم ہوا کہ جس مقام پر وہ موجود ہے وہیں 28جون 1919ء کے روز دنیا کے چار بڑے ممالک کے سربراہان بھی ملے تھے۔ فرانس،برطانیہ اور اٹلی ان دنوں دنیا کی تین بڑی سامراجی قوتیں تھیں۔ انہیں خوف لاحق تھا کہ ان دنوں کا جرمنی اور خلافت عثمانیہ باہم مل کر ان کے اجارہ کو للکارنے کی تیاری کررہی ہیں۔ امریکہ اس قضیے سے الگ تھلگ ہوا معاشی........
