موت کا حساب دو!
ایک ماں اپنے بچے کو بچانے نکلی تھی اسے کیا معلوم تھا کہ جس ایمبولینس میں زندگی کی امید لے کر بیٹھی ہے، وہی گاڑی آگ کی لپیٹ میں آ جائے گی! تھرپارکر کے ایمبولینس سانحے میں دس افراد کی موت کی اطلاع نے ہر حساس دل کو ہلا دیا مرنے والوں میں ایک نومولود بھی شامل تھا کسی گھر کا چراغ بجھا، کسی ماں کی گود اجڑی، کسی خاندان کی دنیا بدل گئی۔گاڑی میں آگ کیسے لگی؟ آکسیجن سلنڈر کا کیا کردار تھا؟ حفاظتی انتظامات میں کوئی خرابی تھی یا نہیں؟ ان سوالوں کا حتمی جواب تحقیقات سے آنا چاہیے لیکن ایک سوال ابھی سے جواب مانگتا ہے آخر مریضوں کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے؟ ہمارے ہاں حادثہ ہوتا ہے تو تعزیتی بیانات آتے ہیں امداد کا اعلان ہوتا ہے کمیٹی بنتی ہے رپورٹ مانگی جاتی ہے پھر عوام اگلی خبر میں الجھ جاتے ہیں مگر جن گھروں سے جنازے اٹھتے ہیں، ان کے لیے خبر کبھی پرانی نہیں ہوتی۔وزیراعلیٰ سندھ نے امداد اور تحقیقات کا اعلان کیا ہے یہ ضروری اقدامات ہیں لیکن کیا صرف اعلان کافی ہے؟ متاثرہ خاندانوں کو بروقت مدد ملنی چاہیے تحقیقات مکمل ہونی چاہییں نتائج سامنے آنے چاہییں اور جہاں غفلت ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ معاوضہ انصاف کا متبادل نہیں وزیراعلیٰ سندھ کی ذمہ داری ہے کہ متعلقہ محکموں سے جواب طلب کریں اور اصلاحی اقدامات کی نگرانی کریں صوبے کے انتظامی سربراہ کا اصل امتحان یہی ہے کہ حادثے کے بعد نظام میں کیا تبدیلی آتی ہے۔وزیرِ صحت کا کردار بھی واضح ہونا چاہیے وہ بتائیں کہ صوبے میں مریضوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی ایمبولینسوں کے حفاظتی معیار کیا ہیں ان........
