امداد نہیں‘ ٹیکنالوجی ...
جس معاشرے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں انسانیت نظر نہ آئے سمجھو وہ ادارے ناکارہ ہوچکے ہیں یاپھروہاں کے طالب علموں کو تعلیم وتربیت سے کوئی لگاؤہی نہیں رہا۔ وہ محض نوکری کے حصول کیلئے تعلیمی ڈگری حاصل کرناچاہتے ہیں جس کی وجہ سے معاشروں میں زوال پیدا ہوتاہے اور اسی طرح پاکستان میں ہوا ہے۔ جب تک معیاری تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے طالبعلموں نے ملک بھاگ دوڑ سنبھالی کسی حد تک ملک کانظام بہتر انداز میں چلتارہاہے لیکن اب تو پورا سسٹم ہی بیٹھ چکاہے۔ ہر مسئلے کوڈنڈے سے حل کرنا کسی مہذب معاشرے کاطریقہ کار ہرگزنہیں ہوسکتا۔ ہمیں ملک میں معیاری تعلیمی ادارے بناناہونگے جب ہی ہم باصلاحیت نوجوان افرادی پیدا کرکے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑ کرسکتے ہیں۔ ہمیں محض بیرونی امداد پر انحصارکرنے کے بجائے جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے جدوجہد کرناہوگی۔ ہمیں امداد نہیں ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ ہمارے حکمران اگر امداد کے بجائے ٹیکنالوجی جدید مشینری کو حاصل کرکے اسے قومی ترقی کا ذریعہ بنانا شروع کردیں تو ہم بہت جلد سارے بیرونی قرضے ادا کر سکتے ہیں۔ یہ موجودہ نظام کاہی کمال ہے کہ طالب علموں کیلئے تعلیم کاحصول شعوروآگاہی وتربیت کے بجائے حصول جاب تک محدود کردیا گیاہے جس کے باعث ہمارے سماج سے اخلاقیات ختم ہوتی جارہی ہیں۔ قدرے ختم ہوچکی ہیں۔ ہمارے نظام تعلیم میں بے شمار خرابیوں کے باعث ہمارا سماج زوال پذیر ہوچکا تعلیم کو محض جاب کے حصول تک محدود........
