غائباتِ مزید
کل یہ تو لکھا کہ درخت جنات کے ’’پلے گرائونڈ‘‘ ہوتے ہیں، تو یہ بات لکھنے سے رہ گئی کہ درخت ان کے ’’غذائی مراکز‘‘ بھی ہوتے ہیں۔ جنات کی غذا کے بارے میں مشہور ہے کہ کوئلہ اور ہڈّی کھاتے ہیں لیکن یہ ان کیلئے ’’فاسٹ فوڈ‘‘ ہیں یعنی ’’النسٹنٹ انرجی‘‘ کا ذریعہ۔ اصل میں تو وہ تقریباً ہر ایسی شے کھا جاتے ہیں جو انسان کی خوراک ہیں۔ آتشی مادہ سے بنے ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ تر وہی غذائیں کھاتے ہیں جن میں کاربن زیادہ ہو۔ کاربو ہائیڈریٹس کے علاوہ پروٹین بھی ایک قسم کا ایندھن ہے جو انہیں چاہیے۔ مٹھائی بھی انہیں بہت مرغوب ہے اور کئی پودوں میں مٹھائی والے اجزا ہوتے ہیں جیسے بیری کا درخت یا برگد کا پیڑ۔ جنات انسانوں کی طرح غپاغپ نہیں کھاتے اور زندہ پیٹانِ لاہور کی طرح گھپاگھپ تو بالکل نہیں۔ ان کا کھانا ایک قسم کا چوسنا بلکہ چوسنا بھی نہیں، غذائی ’’بخارات‘‘ کو جذب کرنے کی طرح ہے۔ پکّی پکّی جنّات کی رہائش گاہوں میں کوئلہ اور مٹھائی رکھ دو، ہفتہ دس دن بعد دیکھو جوں کی توں پڑی ہوں گی، غور سے دیکھو تو کیفیت میں فرق محسوس ہو گا۔ بس جو انہوں نے جذب کیا، اس کا اظہار کیفیت سے ہو جائے گا۔ ___الہامی کتب میں ہے کہ جنّات کی پیدائش آگ سے ہوئی اور مزید تصریح ہے کہ آگ کی لپٹ سے۔ یہ مادے کی گویا خاص اور لطیف حالت ہوگی۔........
