menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امریکہ،ایران معاہدہ: ...

12 0
19.06.2026

امید، احتیاط اور ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کی تلاشبین الاقوامی سیاست میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض دو ممالک کے درمیان تعلقات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے عالمی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع معاہدہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔ کئی دہائیوں کی دشمنی، معاشی پابندیوں، سفارتی تناؤ، فوجی دھمکیوں اور علاقائی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک ایک ایسے موڑ پر پہنچے ہیں جہاں دنیا کی نظریں ان پر مرکوز ہیں۔اگر یہ معاہدہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور اسلامی دنیا کی سیاست تک محسوس کیے جائیں گے۔ اسی لیے آج پوری دنیا امید اور احتیاط کے درمیان کھڑی اس پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔دشمنی کی نصف صدی: پس منظر کیا ہے؟ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی کی جڑیں 1979ء کے ایرانی انقلاب میں ملتی ہیں۔ انقلاب کے بعد ایران نے مغربی اثر و رسوخ کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی راہ اختیار کی جبکہ امریکہ نے اپنے خطے کے ایک اہم اتحادی کے کھو جانے کو ایک بڑے اسٹریٹجک نقصان کے طور پر دیکھا۔ اس کے بعد سفارت خانے کے بحران، اقتصادی پابندیوں، جوہری تنازع، خلیجی کشیدگی اور مختلف علاقائی تنازعات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مسلسل خراب کیا۔ کئی مواقع پر براہِ راست جنگ کے خدشات بھی پیدا ہوئے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں متعدد سفارتی کوششیں ہوئیں لیکن باہمی عدم اعتماد ہمیشہ بڑی رکاوٹ ثابت ہوا۔ اسی لیے آج کا متوقع معاہدہ صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ تقریباً نصف صدی پر محیط ایک تنازع میں ممکنہ تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔دنیا کی نظریں اس معاہدے پر کیوں لگی ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے........

© Nawa-i-Waqt