menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

نبیوں کے سردار

13 0
18.03.2026

حضرت موسیٰ علیہ اسلام کلیم اللہ تھے۔ انبیاء  پر ایک خاص مقام رکھتے ہیں مگر آقائے نامدار محمد مصطفیٰ ﷺ کا مقام و مرتبہ سب پر بلند فرما دیا۔ حضرت موسیٰ ؑکے بارے میں قرآن فرماتا ہے کہ انہوں نے کہا’’رب کریم !میں تیرے پاس جلدی جلدی آیا تاکہ تو مجھ سے راضی ہو جائے(طہٰ)۔ جب کہ قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کی شان کریمی یوں بیان کی گئی ہے کہ ’’تیرا ربّ تجھے اتنا دے گا کہ تو راضی ہو جائے(الضحیٰ)۔ حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرمایا ’’موسی نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، لہذا مجھے معاف فرما دے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔بلا شبہ وہ غفورو رحیم ہے‘‘۔(القصص)۔  جب کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ہم نے آپ کو واضح فتح عطا فرمائی تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے ،اپنی نعمت آپ پر مکمل فرمائے اور آپ کو صراط مستقیم پر قائم رکھے‘‘( الفتح)۔ حضر ت موسیٰؑ کے بارے میں مذکور ہے’’موسی نے کہا: اے میرے ربّ! میرے لئے میرا سینہ کھول دے‘‘۔(طہٰ)۔  جب کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا ؟‘‘(الانشراح)۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا’’اے اللہ ! میرے لئے میرا کام آسان فرما دے‘‘(طہٰ)۔ جب کہ نبی اکرمﷺ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے ’’اور ہم آپ کے لئے آسانی مہیا کریں گے‘‘۔(الاعلیٰ)۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ سے زمین پر کلام کیا جب کہ اپنے حبیبﷺ سے زمین پر بھی کلام کیا اور انہیں عرش پر بلا کر روبرو بھی کلام کیا۔حجابات اٹھا دئیے،محب اور حبیب ﷺ کا معاملہ تھا۔ تمام انبیاء کرام کو خاص اقوام ،علاقوں کی طرف مبعوث فرمایا جب کہ نبی کریم ﷺ سے فرمایا’’اور ہم نے آپ کو سب جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘(الانبیاء )۔’’بلا شبہ تمہارے پاس تمہاری نسل میں سے ایک عظیم رسول تشریف لا چکے جن پر تمہاری تکلیف و مشقت بہت شاق گزرتی ہے اور تمہارے مفاد کے وہ بہت خواہشمند ہیں۔ وہ ایمان والوں کے لئے رئوف و رحیم ہے‘‘۔(توبہ)۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ میں سے یہ دو نام آپ ﷺ کو عطا فرما دئیے۔کسی شخص کی زندگی میں اس کی زندگی کی قسم اٹھانا اس کی زندگی کے عظیم الشان ہونے کا ثبوت ہے۔ ظاہر ہے وہ زندگی قسم اٹھانے والے کے نزدیک بہت پیاری و بلند و بالا ہو گی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی قسم اٹھاتے ہوئے کہا’’ تیری حیات طیبہ کی قسم !یہ لوگ اپنی مدہوشی میں اندھے ہو رہے ہیں‘‘(الحجرات)۔ قرآن مجید میں نبی اقدسﷺ کو انتہائی احترام اور پیار سے خطاب فرمایا گیا مثلََا یا نبی،یا رسول،یا مزمل،یا مدثر جب کہ باقی انبیاء کو ان کے ناموں سے پکارا گیا مثلاً یا آدم، یا نوح، یا موسیٰ، یا دائود، یا زکریا، یا یحییٰ، یا عیسیٰ وغیرہ۔ قرآن پاک ایک مکمل نعت ہے۔اللہ تعالیٰ کا انداز بے تکلفی اور محبت کا یہ عالم کہ اپنے حبیب سے فرماتا ہے’’اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے لئے بہت نرم ہیں۔اگر آپ درشت مزاج ،سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے لہذا ان سے در گزر کیا کریں۔  بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی ان کے لئے استغفار کیا کریں اور باہمی معاملات میں ان سے مشورہ کیا کریں۔البتہ جب فیصلہ کر لیں تو پھر اللہ کے بھروسہ پر ڈٹ جائیں،بلا شبہ اللہ توکل کرنے والوں کوپسند فرماتا ہے‘‘(آل عمران)۔ محمد رسول ﷺایسی بے مثال ہستی کی عبادت کا مرکز بھی صرف اللہ سبحان تعالیٰ کی ذات اقدس تھی اور امت کو بھی یہی دین سکھایا کہ عبادت اور سجدے کے لائق صرف اللہ کی ذات اقدس ہے۔اس پاک پروردگار کے گھر کی زیارت کا جس گھڑی بلاوا آتا ہے پیر زمین پر چلنا بھول جاتے ہیں اور نگاہوں کو بیت اللہ اور گنبد خضرا کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔جس طرح بیت اللہ شریف تک پہنچنے کے لئے ویزے اور پاسپورٹ کی ضرورت ہے ،اسی طرح اللہ کی رضا تک پہنچنے کے لئے محمد رسولﷺ کی محبت اور اطاعت ضروری ہے۔ جب بھی بیت اللہ شریف کی حاضری نصیب ہو ئی ،اللہ سے اس کے اس کے حبیب ﷺ کی محبت مانگی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے دنیا میں جن سے محبت ہو گی آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔رب کا وعدہ ہے کہ وہ مانگنے والے کو عطا کرتا ہے تو کیوں نہ دونوں جہانوں کی رحمت مانگ لی جائے۔ یعنی رحمت العالمین کو ہی مانگ لیا جائے۔


© Nawa-i-Waqt