وزیراعظم رمضان ریلیف ...
موجودہ مالی سال کے لیے رمضان پیکیج کی مد میں پہلے ہی 19 ارب روپے بجٹ میں مختص کئے جا چکے ہیں۔ اس حوالے سے ای سی سی نے فوری طور پر 19 ارب روپے کے اجراء کی منظوری دے دی تاکہ رقوم کی بروقت تقسیم کا آغاز ممکن بنایا جا سکے جبکہ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اضافی فنڈز کا جائزہ ضرورت اور دستیاب مالی گنجائش کے مطابق لیا جائے گا۔ ای سی سی نے ایک ارب روپے کے آپریشنل اخراجات کی اصولی منظوری دی ،تاہم اسے فنانس ڈویڑن کو جامع تفصیلات جمع کرانے سے مشروط قرار دیا تاکہ رقوم کی تخصیص حقیقی ضروریات اور مالیاتی قواعد و ضوابط کے مطابق ہو۔ ای سی سی نے ادائیگیوں کے فوری آغاز کی ضرورت کو بھی نوٹ کیا اور ابتدائی تقسیم کو ممکن بنانے کے لیے از سر نو مختص شدہ فنڈز کے ذریعے کئے گئے اقدامات کی توثیق کی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اخراجات پاکستان کے مالیاتی وعدوں کے مطابق منظم کیے جائیں گے اور غیر استعمال شدہ رقوم کو مقررہ طریقہ کار کے تحت واپس کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کے سامنے پیش کردہ سمری کے مطابق وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کا مجموعی حجم 39 ارب روپے ہے جس میں سے 10 ارب روپے پہلے ہی (بی آئی ایس پی کے پاس دستیاب ہیں جبکہ 29 ارب روپے کا انتظام ان تین اجزاء کے ذریعے کیا گیا ہے جن پر ای سی سی نے غور کیا جن میں تکنیکی ضمنی گرانٹ، آپریشنل اخراجات اور از سر نو مختص شدہ فنڈز کی باقاعدہ منظوری شامل ہیں۔ مالیاتی ڈھانچہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ پیکیج کے لیے مکمل وسائل فراہم ہوں جبکہ عمل درآمد کے دوران مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت بھی برقرار رکھی جائے۔ ای سی سی نے رمضان المبارک کے دوران مستحق طبقات کو بروقت اور باوقار معاونت فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا جبکہ مالیاتی ذمہ داری اور امدادی اقدامات کے نفاذ میں موثر نگرانی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے اس امر کی تاکید کی کہ ریلیف کی فوری تقسیم اور مالیاتی احتیاط و شفافیت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کوماہ مقدس کے دوران کمزور اور نادار خاندانوں کو ہدفی مالی معاونت فراہم کرنے کے ہدف کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ پیکیج کا مقصد مستحقین کے انتخاب میں شفافیت اور معروضیت کو یقینی بنانا ہے جس کے لیے نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) کے ڈیٹا سے استفادہ کیا جائے گا تاکہ صوابدیدی فیصلوں کا خاتمہ اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے تحت شناخت شدہ کم آمدن والے گھرانوں کو ایک مرتبہ نقد مالی امداد فراہم کی جائے گی، ساتھ ہی موجودہ سماجی تحفظ کی معاونت میں اضافہ بھی کیا جائے گا اور رقوم کی ادائیگی باضابطہ بینکاری اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے براہ راست مستحقین تک پہنچائی جائے گی تاکہ محفوظ اور موثر ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب سماجی انصاف کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے عالمی کوششوں کی مکمل حمایت اور ان کے ساتھ تعاون کا اعادہ حکومت سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، پسماندہ طبقات کی معاونت کرنے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ پاکستان اور عالمی برادری بھرپور انداز میں اس مثبت معاشرتی پہلو کے ساتھ اپنی وابستگی اور اس کے فروغ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے، حکومتی سطح پر جامع پالیسی سازی اور انفرادی سطح پرتمام اکائیوں کی بامعنی شمولیت ہی مضبوط سماجی تحفظ کے نظام کی ضامن ہے۔ سماجی انصاف محض ایک خواہش نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے، حکومت پر عزم ہے کہ معاشرتی اساس ایسی مثبت اقداد پر استوار کی جائیں جو حقوق کی عوامی آگاہی، انتظامی سطح پر اس کا مکمل ادراک اور اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ سماجی انصاف اور معاشرتی عدل اس بات کا متقاضی ہے کہ ہر شہری کو بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب و عقائد ،مساوی شہری مواقع اور باوقار زندگی گزارنے کے یکساں وسائل میسر ہوں۔ اسی احساس ذمہ داری میں پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار عالمی رکن کی حیثیت سے سماجی انصاف کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے عالمی کوششوں کی ہرممکن تعاون اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔پاکستان عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان میں درج بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں ہے۔ حکومت پاکستان غربت کے خاتمے، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور سب کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے۔٭٭٭٭٭
