مٹی، امانت اور انسان ، ...
Soil of Paradise اور سید کامران ظفر کے فکری سفر پر ایک طویل نظر کچھ کتابیں صرف پڑھی جاتی ہیں، اور کچھ کتابیں انسان کو پڑھنے لگتی ہیں۔ Soil of Paradise بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ یہ قاری کے ہاتھ میں آتے ہی اسے ایک ایسے سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جس سے بچنا آسان نہیں: ہم زمین کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کتاب ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کی بات ختم نہیں ہوتی۔ اس کی بات ہمارے گھروں، ہمارے کچن، ہماری پلیٹ، ہماری فصلوں، ہمارے پانی اور ہماری آنے والی نسلوں تک پھیل جاتی ہے۔
یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زمین صرف ہمارے قدموں کے نیچے موجود مٹی نہیں بلکہ ہماری زندگی، صحت، اخلاق اور ایمان سے جڑی ہوئی ایک عظیم امانت ہے۔ آج کا انسان خود کو زمین کا مالک سمجھ بیٹھا ہے ہم نے زمین کو ناپا، تولہ، خریدا، بیچا اور استعمال کیا، مگر ہم یہ بھول گئے کہ جس چیز کو ہم ختم کر سکتے ہیں، وہ ہماری ملکیت نہیں ہو سکتی۔ ملکیت صرف اس کی ہوتی ہے جسے ہم بچا سکیں۔
سید کامران ظفر اپنی اس کتاب میں ہمیں بڑے سکون، سادہ الفاظ اور گہرے مشاہدے کے ساتھ یہی بات سمجھاتے ہیں کہ زمین ہمیں فائدہ دینے کے لیے دی گئی تھی، برباد کرنے کے لیے نہیں۔ ہمیں اس پر کام کرنے کا حق دیا گیا تھا، مگر اس کی حفاظت کے بغیر۔ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں، بلکہ انسانیت کی قدیم ترین مشترکہ تعلیم ہے ہندو روایت زمین کو ماں کہتی ہے، اور ماں کا........
