بادشاہ کی پوشاک جنتر منتر میں
دو ہزار چودہ میں نریندر مودی کی انتخابی کامیابی میں جہاں اڈانی و امبانی کے سرمائے نے کلیدی کردار ادا کیا وہیں پہلی بار آر ایس ایس اور بی جے پی نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اپنا پیغام موبائل فون کے ذریعے گھر گھر پہنچایا اور ٹیکنالوجی کے سبب ایک ہی وقت میں کئی کئی جلسوں سے خطاب کرنا ممکن ہوا۔مودی نے اپنی ریاست گجرات کی صنعتی ترقی بطور شو کیس پیش کرتے ہوئے اسے پورے دیش تک پھیلانے کا وعدہ کیا۔ یوں ’’ مودی ہے تو ممکن ہے ‘‘ کے نعرے نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ نتیجہ زبردست انتخابی جیت کی شکل میں نکلا۔
مگر آر ایس ایس کے گھاگ نظریہ سازوں اور مودی کی فتح کے ڈیجیٹل معمار اندر سے جانتے تھے کہ مودی جی جنتا سے جوش میں جتنے وعدے کر بیٹھے ہیں، ان میں سے آدھے بھی پورے ہو جائیں تو بڑی بات ہو گی۔چنانچہ وعدے اور حقیقت کا خلا پر کرنے کے لیے چو طرفہ حکمتِ عملی اختیار ہوئی۔
اول یہ کہ میڈیا کو ترغیب و دھونس و پیسے سے قابو میں لاؤ تاکہ عام آدمی تک سرکاری سچ ہی پہنچ سکے ۔ اڈانی اور امبانی گروپ کو شہہ دی گئی کہ جتنے چینل اور اخبارات ِخریدے جا سکیں خرید لیں۔پروفشینل صحافیوں کے لیے ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ یا تو وہ سرکاری بھونپو بن جائیں یا خاموش بیٹھ جائیں یا استعفی دے دیں یا پھر نکال دیے جائیں اور ان کی جگہ نظریاتی کمیٹڈ صحافیوں سے پر کی جائے۔
ٹی وی چینلز میں بھی اینکرز کی اسی طرح چھانٹی ہوئی اور اسکرین پر نظریاتی گدھ بٹھا دیے گئے جن کا کام تھا کہ ناکامی کو بھی شاندار کامیابی بنا کر پیش کیا جائے۔ عام........
