پنجاب کے واقعات اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ریڈ لائن
ایک ماں کے سامنے جب اُس کے بچے کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر کوئی بدتمیزی، تشدد یا بدتہذیبی ہو تو اُس کا فوری ردعمل خواہش کیا ہوگی؟ یہ ایک وہ عام سوال ہے جس کا جواب یقیناً ہر شخص جانتا ہے کہ وہ عورت اپنے بچے کے تحفظ کیلیے کم از کم یہ ضرور چاہیے گی کہ ایسے شخص کو فوری طور پر کوئی سزا ملے۔
ہماری مشرقی ماؤں کا عالم تو یہ ہے کہ اگر اُن کے سامنے بچے کو گھر کا کوئی فرد ڈانٹے یا مارے تو اُس کا موم کا دل آگ سے بھر جاتا ہے، اچھا یہ کوئی انتقام نہیں بلکہ ایک ماں کا فطری عمل ہے اور یہ وہی عورت ہوتی ہے جو کبھی گھر میں زور سے ڈانٹ پڑنے یا اسکول میں ٹیچر کے سوال کرنے پر خوف سے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر حواس باختہ ہوجاتی ہے۔
چند برسوں کے دوران پنجاب میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس کی بنیاد پر وہاں کی حکومت اور بالخصوص مریم نواز پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
اس کا بنیادی معاملہ پنجاب میں تشکیل دی گئی فورس کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مبینہ مقابلوں کا ہے جس میں زیر حراست ملزمان مارے گئے اور ان حالیہ واقعات کی وجہ سے مریم نواز کی گورننس پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
ایک واقعہ تو اُس 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کا ہے جو اپنے بھائی کے ساتھ ایک یتیم خانے میں زندگی بسر کررہا تھا اور حال ہی میں ایک شخص کے پاس الیکٹرک کا کام سیکھنے کےلیے لگا۔ یہ واقعہ جو کچھ ہوا سب کے علم میں ہے، پولیس نے ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کیا اور پھر عدالت میں پیش کر کے چار روزہ ریمانڈ لیا۔
اس کے بعد وہی روایت کے مطابق ملزم حراست سے فرار ہوا اور پھر بہاولپور کے قریب ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا، دوسرا واقعہ اسلام آباد کی لائبہ اعجاز کا ہے جس میں فراڈ کرنے والا زیر حراست ملزم نعمان بھی اُسی انداز سے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
ان دو واقعات کو ہوئے ابھی تین روز بھی نہیں گزرے کہ لاہور کے جوبلی ٹاؤن میں پیٹرول پمپ پر........
