سوشل میڈیا پر آواز اٹھانا اب خطرے سے خالی نہیں
وحید مراد کے گھر رات گئے نامعلوم افراد کی آمد سے بلال غوری کی گرفتاری اور صحافیوں کو سائبر کرائم نوٹسز تک، سوشل میڈیا پر صحافت کرنے والوں کو قانونی کارروائی اور تحفظ کے نئے سوالات کا سامنا ہے۔
2001 میں کم عمری میں صحافت کا آغاز کرنے والے وحید مراد نے دو دہائیوں سے زائد عرصے میں صحافت کے بدلتے انداز اور اس کے نشیب و فراز کو قریب سے دیکھا، لیکن آج صحافت کا میدان بدل چکا ہے۔ خبر اب صرف اخبار یا ٹی وی تک محدود نہیں، سوشل میڈیا بھی صحافیوں کی آواز بن چکا ہے مگر اس آواز کو بلند کرنے کی قیمت کیا ہے؟ وحید مراد کا تجربہ اس سوال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔ اسلام آباد کے نامور صحافی وحید مراد کے مطابق 26 مارچ 2025 کی رات تقریباً دو بجے ان کے گھر کا دروازہ توڑا گیا اور نامعلوم افراد انہیں اپنے ساتھ لے گئے، تقریباً 13 گھنٹے تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ اس واقعے کو اغوا قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس تجربے نے ان کی صحافت اور سوشل میڈیا پر اظہار رائے کا انداز تو نہ بدلا، اور نہ ہی انہوں نے اس خوف کو اپنی صحافت پر حاوی نہیں ہونے دیا البتہ ان کے خاندان کے تحفظات ضرور بڑھ گئے ہیں۔
وحید مراد نے بتایا کہ انہیں اس وقت وارنٹ، ایف آئی آر یا کوئی نوٹس نہیں دکھایا گیا، بعد میں انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کے حوالے کیا گیا، جہاں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر دھمکی آمیز مواد شائع کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں، وحید مراد کے اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا اور 28 مارچ 2025 کو عدالت نے انہیں بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔ تاہم، ضمانت مقدمے سے بریت نہیں تھی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی آئین وقانون کے تحت اپنی صحافت کررہے تھے یعنی آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت آزادی اظہار رائے کا استعمال کررہا تھا اور اس واقعے کے ذریعے محض انہیں ڈرانے ، دھمکانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد بھی انہوں نے کوئی پوسٹ، اسٹوری یا اپنی رائے اس خوف سے نہیں روکی کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایسی کوئی خبر نہیں دی جسے بعد میں وہ ثابت نہ کرسکیں، اور نہ ہی ایسا کسی صحافی کو کرنا چاہیے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ صحافیوں کو خبر دیتے وقت تصدیق، ذمہ دارانہ زبان اور متعلقہ فریق کا مؤقف لینے جیسے اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر بڑھتے خطرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں روایتی میڈیا میں جگہ محدود ہونے اور دباؤ بڑھنے کے باعث سوشل میڈیا صحافت کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، اسی لیے صحافی ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی خبر بریک کرتے ہیں، اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں، سیاسی رہنماؤں کے بیانات حاصل کرتے ہیں اور مختلف فریقوں کا مؤقف سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے نزدیک، سوشل میڈیا نے صحافیوں کو اپنی بات براہِ راست عوام تک پہنچانے کا موقع دیا ہے، لیکن سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات اور کارروائیوں کے سبب یہ پلیٹ فارم خطرے سے خالی نہیں، کیوں کہ سائبر کرائم قوانین کو تنقیدی آوازیں دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، انہوں نے اسے پاکستان........
