menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

حج: بندگی، قربانی اور روحانی بیداری کا سفر

20 0
26.05.2026

’’حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، ہر نعمت تیری عطا ہے، بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

یہ روح پرور صدائیں جب فضاؤں میں گونجتی ہیں تو ہر مسلمان کا دل عشقِ الٰہی، عقیدت اور روحانی سرشاری سے لبریز ہو جاتا ہے۔ حج اسلام کا پانچواں رکن اور عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض قرار دی گئی ہے۔ یہ محض چند مناسک کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت، بندگی، قربانی، عاجزی اور اپنے رب کے سامنے مکمل سپردگی کا عملی مظہر ہے۔

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں تاکہ بیت اللہ کے سائے میں اپنے رب کی رضا اور قرب حاصل کر سکیں۔ خانہ کعبہ کا روح پرور طواف، صفا و مروہ کی سعی، میدانِ عرفات میں بہنے والے آنسو، مزدلفہ کی خاموش راتیں اور لبیک کی گونجتی صدائیں انسان کو ایسی روحانی کیفیت میں ڈبو دیتی ہیں جہاں دنیا کی تمام رنگینیاں اور خواہشات ماند پڑ جاتی ہیں۔ حج انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور بندگی میں پوشیدہ ہے۔

حج کی تکمیل کے بعد قربانی کی سنت ادا کی جاتی ہے، جو حضرت ابراہیمؑ کی بے مثال اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے ہر شے قربان کر دینے کے عظیم جذبے کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یہ عمل صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا اور دنیاوی محبتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دینے کا درس بھی دیتا ہے۔

جو خوش........

© Express News (Blog)