Sheikh Imtiaz Ali, Legendary Ustad Aur Bemisal Muntazim
شیخ امتیاز علی، لیجنڈری استاد اور بے مثل منتظم
اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلی نصف صدی میں پاکستان کی تعلیمی درسگاہوں کو نہ شیخ امتیاز علی صاحب جیسا استاد ملا ہے اور نہ ہی ان جیسا بے مثال ایڈمنسٹریٹر۔ معاشرے زوال پذیر ہوجائیں تو انسانی بڑائی اور عظمت ماپنے کے پیمانے بدل جاتے ہیں، ورنہ ہمارے ہاں اگر کردار کی عظمت اور ارفع اصولوں کی پاسبانی، انسان کے بڑا ہونے کا معیار ہوتی تو ملک کا ہر صحافی اور ہر چینل گواہی دے رہا ہوتا تو 5 جولائی کو لاہور میں اتنے بڑے انسان کو قبر میں اتارا گیا جس کا پورے ملک میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ پاکستاننیوز
یقین سے کہتا ہوں کہ پروفیسر امتیاز علی صاحب جیسی عبقری شخصیت کسی زندہ معاشرے میں ہوتی تو اس پر فلمیں بنتیں، چوکوں اور شاہراہوں کے نام رکھے جاتے، نامور اینکرز انٹرویو کے لیے اس کے گھر کے باہر منڈلاتے رہتے اور صدرِ مملکت خود ان کے گھر جا کر انھیں ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ پیش کرتے، مگر ہمارے ہاں کے معیار پست اور ترجیحات فرسودہ ہیں جہاں قوم کی تعمیر کرنے والے معماروں سے اداکاروں اور گلوکاروں کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
کئی بار لکھ چکا ہوں، ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ تعلیم سے مجرمانہ غفلت اور اساتذہ کی ناقدری ہے۔ انسانیت کے عظیم ترین محسنﷺ اور راہنمائے اعظم حضرت محمدﷺ کے اس فرمان نے کہ "مجھے دنیا میں معلّم بنا کر بھیجا گیا ہے" دنیا بھر کے اساتذہ
کو سب سے زیادہ معزز اور محترم ہونے کی سند عطا کردی۔ مگر اس ملک کے حکمران نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ معلّم کو عزّت وتکریم۔ سچ تو یہ ہے تمام حکمرانوں نے تعلیم کو نظر انداز کرنا اور اساتذہ کو بے توقیر کرنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔
اس پس منظر میں ایک نوجوان، افسرانہ سروس کی بجائے معلّمانہ کیرئیر اپناتا ہے اور علی گڑھ یونیورسٹی میں اوّل آنے کے بعد دہلی یونیورسٹی میں بطور لیکچرر تعینات ہو جاتا ہے، قانون پڑھانے والا یہ نوجوان مسلمانوں کے قائد محمدعلی جناحؒ کے اعلیٰ کردار اور اصول پسندی سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ ہندوستان کو خیرباد کہہ دیتا ہے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک انتہائی مشکل اور جان لیوا سفر کے بعد پاکستان پہنچتا ہے۔ نئے ملک پہنچ کر وہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے وابستہ ہوجاتا ہے اور صرف 33 سال کی عمر میں اس کی........
