Shehr e Iqbal Mein Hazri
جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ بشیر صاحبہ جب جی سی یونیورسٹی لاہور کی وائس چانسلر تھیں تو اس وقت ان کے ساتھ ایک دو مرتبہ فون پر گفتگو ہوئی جس سے اندازہ ہوگیا کہ وہ ایک جیّد اقبال شناس ہیں۔ وہ جہاں جاتی ہیں، طالبات کی شخصیّت کی تعمیر میں ایک ایسے جذبے کے ساتھ جُت جاتی ہیں جس میں ایک معلّمہ کی دانش بھی شامل ہوتی ہے اور ماں کی شفقت اور محبّت بھی۔ پچھلے دس ماہ سے وہ گوجرانوالہ ڈویژن کی سب سے بڑی ویمن یونیورسٹی یعنی جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر ہیں۔ ان کی جانب سے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں اقبالیات پر لیکچرکی دعوت ملی تو میں نے بڑی خوشی کے ساتھ حامی بھرلی، کیونکہ شہرِ اقبال کا وزٹ میرے لیے ہمیشہ مسرّت وافتخار کا موجب رہا ہے۔
کچھ سال پہلے جب میں سیالکوٹ سمیت چھ اضلاع پر مشتمل ڈویژن کی پولیس کا سربراہ تھا تو باقی اضلاع کے تو دورے ہوتے تھے مگر شہرِ اقبال کے لیے میں دورے کی بجائے "حاضری" کا لفظ استعمال کیا کرتا تھا۔ میرے آنے کی اطلاع ملنے پر سیالکوٹ کے ممتاز ترین صنعتکار خواجہ مسعود صاحب (فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں میں انھی کا تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوتا ہے) اور خواجہ خاور صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وی سی صاحبہ کی دعوت پر اولڈ راونیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شہباز شیخ لاہور سے آگئے اور گوجرانوالہ ڈویژنل پولیس کے ایک سابق سربراہ کے آنے کی وجہ سے اخلاقاً یا احتراماً ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل شہزاد بھی یونیورسٹی پہنچ گئے۔
ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں گیارہ ہزار سے زیادہ طالبات زیرِ تعلیم ہیں، طالبات کی اتنی بڑی تعداد خواتین کے کسی اور تعلیمی ادارے میں نہیں پڑھ رہی۔ ڈاکٹر شازیہ بشیر صاحبہ اس جامعہ کی تعمیر وترقّی کے لیے دن رات کوشاں رہتی ہیں۔ ڈاکٹر افضال بٹ اور ڈاکٹر صاحبہ بھی ان کے شانہ بشانہ مصروفِ عمل ہیں۔ انتہائی دکھ کی بات ہے ہمارے ماضی کے کچھ حکمرانوں نے بیرونی دباؤ کے تحت حکیم الامّت کی نظموں کو نصاب اور کتاب سے ہی نکال دیا تھا۔ اس لیے........
