Ghair Madari Zuban
ایک ایسی زبان کا تصور کیجیے جس کے لکھنے والے ادیبوں کی اکثریت کی مادری زبان کچھ اور ہو لیکن ذریعۂ اظہار یہ زبان ہو۔ یعنی وہ سوچتے کسی اور زبان میں ہیں، خواب کسی اور زبان میں دیکھتے ہیں، ماں سے بات کسی اور زبان میں کرتے ہیں، لکھتے اسی زبان میں ہیں جو انہوں نے بچپن میں آس پاس کے ماحول سے سن کر نہیں سیکھی، بلکہ کتابوں میں پڑھ کر اور میڈیا پر سن کر سیکھی ہے۔
ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایسے لکھنے والے اس زبان کے تمام کونوں کھدروں، سایوں، کھنڈروں، ویرانوں، دشتوں، محفلوں، مجلسوں تک رسائی رکھتے ہیں؟
18ویں اور 19ویں صدیوں میں اردو بڑی حد تک دلی اور لکھنؤ تک محدود رہی، پھر اس زبان نے آگے بڑھ کر پنجاب تک رسائی حاصل کی۔ سب سے پہلے اقبال نے جھنڈے گاڑے، پھر جلد ہی پنجاب کے دوسرے ادیبوں نے علم تھاما اور اردو ادب پر چھا گئے۔
پنجاب اور خاص طور پر لاہور کے اردو کا تیسرا بڑا دبستان بننے کی وجوہات تو سب کو معلوم ہیں۔ 57 کے ہنگاموں کے بعد جب دلی اجڑی تو محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کی طرح بہت سے ادیب شاعر یہاں اتر آئے۔ گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر گوٹلیب لائنٹر کی زیرِ نگرانی یہاں ادبی سرگرمیاں شروع ہوگئیں جنہوں نے اردو ادب کا دھارا موڑنے کی کوشش کی۔
ایک اور معاملہ یہ ٹھہرا کہ 1849 میں پنجاب کو غصب کرنے کے بعد چار پانچ برس کے اندر اندر انگریزوں نے یہاں کی سرکاری زبان فارسی کی بجائے اردو مقرر کر دی۔ اکثر انگریز انتظامی افسر یو پی کے علاقوں سے آئے تھے اور اردو سے واقف تھے، دوسری وجہ یہ کہ بہت سے انگریز یہ سمجھتے تھے کہ اردو دراصل پنجابی ہی کی ارتقا یافتہ شکل ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب میں اردو کا جو اکھوا پھوٹا وہ جلد ہی چھتنار کی شکل اختیار کر گیا۔ بیسویں صدی میں یہاں جو جو گل کھلے، ان کی مہک آج بھی پورے برصغیر میں پھیلی ہوئی ہے۔
شاعری میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، ن م راشد، میرا جی، مجید امجد، منیر نیازی، ساحر لدھیانوی، ظفر اقبال، احمد مشتاق، حفیظ ہوشیار پوری، حفیظ جالندھری، ابنِ انشا، باقی صدیقی، ضیا جالندھری، احمد فراز (ہندکو) وغیرہ ایسے نام ہیں، جو تازگی، تنوع اور جدت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں۔
نثر میں تو کمال ہی ہوگیا۔ اگر پہلے پانچ افسانہ نگاروں کی درجہ بندی کریں تو ان میں سے کم از کم چار پنجابی نکلیں گے: منٹو، بیدی، غلام عباس، کرشن چندر۔ ان سے ایک سیڑھی نیچے احمد ندیم قاسمی، اوپندر ناتھ اشک، بلونت سنگھ، رام لعل، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، اے حمید، انور سجاد، سریندر پرکاش، منشا یاد، رشید امجد، ممتاز مفتی، پطرس بخاری (ہندکو)، ابن انشا، کرنل محمد خان وغیرہ۔
ناول نگاروں میں عبداللہ حسین، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، جمیلہ ہاشمی، اکرام اللہ، مستنصر حسین تارڑ، مرزا اطہر بیگ، علی اکبر ناطق، اختر رضا سلیمی وغیرہ اہم ادیب ہیں۔
ان سب مصنفوں کی اردو پہلی نہیں، دوسری زبان ہے۔ ان میں سے کسی کی ماں، نانی، دادی اردو نہیں بولتی تھی۔ ان کے محلے کے بچوں کی پہلی زبان اردو نہیں تھی۔ انہوں نے اردو سکول میں سیکھی، یا کتابوں میں پڑھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اردو کی تمام نزاکتوں، لطافتوں اور کیفیتوں پر اہلِ زبان کی طرح حاوی ہو سکتے ہیں؟ کیا انہیں اردو پر ویسی ہی دسترس حاصل ہو سکتی ہے جیسی انہیں اپنی مادری پنجابی، ہندکو وغیرہ پر ہے؟
اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر اردو دنیا کی زبانوں میں انوکھی ٹھہرتی ہے، کہ پچھلی سوا صدی کے دوران اس زبان کے بیشتر بڑے ادیب وہ تھے جن کی یہ مادری زبان نہیں تھی۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ عربی، ہسپانوی، چینی، جاپانی، روسی یا انگریزی کے ساٹھ ستر فیصد بڑے ادیبوں کی پہلی زبان کچھ اور ہو؟
ایسا بھی نہیں ہے کہ مادری زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو ذریعۂ تخلیق نہیں بنایا جا سکتا۔ بالکل بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے سامنے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ انگریزی میں نباکوف بڑا سٹائلسٹ مانا جاتا ہے، کونریڈ نے عمدہ ناول لکھے، سلمان رشدی کی انگریزی نثر کمال کی ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دوسری زبانیں بولنے والوں نے انگریزی پر اس طرح سے دو تہائی اکثریت، حاصل کر لی ہو، جیسے پنجابی بولنے والوں نے اردو کی قومی اسمبلی میں حاصل کی ہے۔
مادری زبان میں لکھنے والے ادیب کو ایسی کیا سہولت حاصل ہوتی ہے جو دوسری یا تیسری زبان میں لکھنے والے کو نہیں ہوتی؟
عام طور پر بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی دس........
