menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Israel Ke Siyah Fam Yahoodi

52 0
31.03.2026

اسرائیل کے سیاہ فام یہودی

یہ درست ہے کہ اسرائیل آئینی طور پر خالص یہودی ریاست (جیوش ہوم لینڈ) بتائی جاتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی انیس فیصد عرب آبادی سے درجہِ دوم کا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں سے درجہ سوم اور چہارم کا سلوک سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مگر اسی اسرائیلی آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ملک ان تمام یہودیوں کی محفوظ آماجگاہ ہے جو دنیا میں کہیں بھی آباد ہیں۔ وہ جب چاہیں اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں۔ انھیں اسرائیل میں اترتے ہی بلا امتیازِ رنگ و نسل و خطہ مساوی سماجی و قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔ کیا واقعی یہ سچ بھی ہے؟

اسرائیل میں دو طرح کے یہودی آباد ہیں۔ ایک وہ جو روس، مشرقی و مغربی یورپ اور شمالی امریکا سے ہجرت کرکے یہاں پہنچے۔ انھیں اشکنازی یہودی کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جنھوں نے افریقہ، عرب اور بھارت و پاکستان و وسطی ایشیا سمیت غیر مغربی دنیا سے ہجرت کی۔ انھیں سفاری یہودی کہا جاتا ہے۔

اسرائیل کے قیام سے پہلے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک پرجوش نوجوان رہنما زیوو جیبوٹنسکی نے یہودی مراجعت کے نظریے کے تحت ارگون نامی مسلح آباد کار گروہ کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اسرائیل کے قیام سے آٹھ برس قبل اگست انیس سو چالیس میں جیبوٹنسکی کا انتقال ہوگیا۔ مگر ان کا شمار اسرائیلی ریاست کے " فاؤنڈنگ فادرز " میں ہوتا ہے۔

جیبوٹنسکی ان تمام رہنماؤں کا نظریاتی گرو سمجھا جاتا ہے جنھوں نے بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی بن گوریان کی لیبر پارٹی کیبرعکس صیہونیت، الٹرا نیشنل........

© Daily Urdu