Doosre Number Par Aane Se Qayamat Nahi Toote Gi
دوسرے نمبر پر آنے سے قیامت نہیں ٹوٹے گی
زیادہ پرانی بات نہیں۔ یہی کوئی چوتھائی صدی پہلے کا قصہ ہے جب متعدد جیوپولٹیکل امریکی پنڈتوں کا اندازہ تھا کہ چین نے بہت ہی سر مارا تو بھی سن دو ہزار پچاس سے پہلے اقتصادی و عسکری طور پر اس کا امریکا سے آگے نکلنا بہت مشکل ہے۔ اگر یہ پنڈت پانچویں صدی قبل مسیح میں لکھی جانے والی تیرہ ابواب پر مشتمل کتاب " دی آرٹ آف وار " (فنِ حربیات) سنجیدگی سے پڑھ لیتے تو شائد چینی نفسیات بہتر طور پر سمجھ پاتے۔
دی آرٹ آف وار کے مصنف سن زو نے اس کتاب کے ذریعے جو تعلیم دینے کی کوشش کی اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر تم طاقتور ہو تب بھی دشمن کے سامنے خود کو کمزور ظاہر کرو تاکہ حریف تمہاری اصل طاقت کا درست اندازہ نہ لگا سکے اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے۔ گھمنڈ ہی وہ پگڈنڈی ہے جو غفلت کی دلدل پر ختم ہوتی ہے۔ سن زو کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہترین فتح وہ ہے جو لڑے بغیر حاصل کی جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کتاب " دی آرٹ آف دی ڈیل " کاروباری گتھیاں سمجھنے والے صحافی ٹونی شوارز کی مدد سے لکھی گئی۔ انیس سو ستاسی سے اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اگر ٹرمپ چین کا دورہ کرنے سے پہلے دی آرٹ آف دی ڈیل کے علاوہ سن زو کی دی آرٹ آف وار کا خلاصہ ہی پڑھ لیتے تو شائد ان کے اور بین الاقوامی سیاست کے حالات ذرا بہتر ہو جاتے۔ مگر اس کے لیے ذات کے پنجرے سے نکلنا لازمی شرط ہے۔
اس تناظر میں چینی ترقی کی........
