Asleha Tijarat Par Das Mumalik Ka Tasalut
اسلحہ تجارت پر دس ممالک کا تسلط
شائد آپ کو یاد ہو کہ جب انیس سو نواسی نوے کے زمانے میں سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا اور دنیا واحد سپرپاور (امریکا) پر مبنی نئے عالمی نظام کی بازگشت سے گونج رہی تھی۔ تب چند تجزیاتی خوش فہم یہ تبلیغ کر رہے تھے کہ سرد جنگ کے خاتمے سے ہم پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں چنانچہ دو سپرپاورز پر مبنی پرانے ورلڈ آرڈر کی کمر توڑ مسابقت کے برعکس بدلی ہوئی دنیا میں ریاستیں اسلحے پر کم خرچ کریں گی اور اضافی پیسہ سوشل سیکٹر پر لگائیں گی۔
جب یہ خوش فہم ایسی لاف زنی کر رہے تھے تو عالمی (امریکی) اسلحہ ساز کمپنیوں کے کرتا دھرتا زیرِ لب مسکرا رہے تھے۔ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے بورڈ رومز میں نئی جنگیں ایجاد ہو رہی تھیں۔ اس کمپلیکس کی مرادیں توقع سے بہت پہلے ہی بر آئیں۔ نائن الیون کے سانحے نے گویا بلی کے بھاگوں چھینکا توڑ دیا۔ سوویت یونین کی جگہ ایک نیا دشمن چین کی شکل میں دریافت کر لیا گیا۔
وہ دن اور آج کا دن پولٹیکل انڈسٹریل ملٹری کمپلیکس مسلسل ہنسی خوشی رھ رہا ہے۔ انیس سو انچاس سے اب تک ریاستیں ایک سو ٹریلین ڈالر سے زائد رقم اسلحے پر خرچ کر چکی ہیں۔ اس بجٹ میں سے ساڑھے اکیاون فیصد (ساڑھے تریپن ٹریلین ڈالر) صرف ایک ملک نے خرچ کیے اور وہ ہے امریکا۔
جتنے انسان چالیس سالہ سرد جنگ میں ہلاک ہوئے ان سے دوگنے انیس سو نوے کے بعد سے اب تک ایجاد کردہ سیکڑوں چھوٹی بڑی جنگوں میں مارے جاچکے ہیں۔ اسلحہ........
