menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aglay Janam Mohe Tail Na Deejo

18 15
13.01.2026

کچھ عرصے پہلے تک عام طور پر ایسے کھلم کھلا بات نہیں ہوتی تھی مگر ٹرمپ نے بین الاقوامی ڈپلومیسی کے چہرے سے منافقت کی نقاب نوچ کے پھینک دی ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے سینہ ٹھونک کے اعلان کیا کہ انھوں نے وینزویلا میں خفیہ آپریشن کے لیے سی آئی اے کو اختیار دے دیا ہے۔ مگر سچائی تو یہ ہے کہ سی آئی اے اور ڈیلٹا فورس نے اگست سے ہی صدر نکولس مدیرو کو اغوا کرنے کی ریہرسل شروع کر دی تھی۔ اس کے بعد امریکا نے وینزویلا کے گرد اینا کونڈا اژدھے کی طرح گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ بحیرہ کیریبین کے اڈوں پر پندرہ ہزار فوجی اتارے گئے۔ دنیا کا سب سے بڑا ایرکرافٹ کیریر جیرالڈ فورڈ، گیارہ جنگی جہاز اور ڈیڑھ سو طیارے تعینات کیے گئے۔

وینزویلا کے علاقائی سمندر میں پچیس سے زائد کشتیوں پر حملہ کرکے سو سے زائد فرضی منشیاتی اسمگلروں کو مارا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دعوی کیا کہ یہ کاروائی وینزویلا پر قبضے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ امریکا کو منشیات سے بچانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ حالانکہ خود امریکی ایجنسیاں اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کی رپورٹ ہے کہ ننانوے فیصد کوکین وینزویلا کے ہمسائے کولمبیا، پیرو اور بولیویا میں تیار ہوتی ہے اور بحرالکاہل، میکسیکو کے راستے امریکا پہنچتی ہے۔ وینزویلا منشیات کی تیاری کا مرکز نہیں ہے۔ مگر امریکا کا نزلہ کولمبیا، پیرو اور بولیویا پر گرنے کے بجائے وینزویلا پر ہی گرنا تھا۔

مزے کی بات ہے........

© Daily Urdu