Awam Ko Bhi Yaad Rakhen
عوام کو بھی یاد رکھیں
پشتومیں کہتے ہیں (چہ ہرچاتہ اخپل وطن کشمیردے)یہ پشتوزبان اورالفاظ میں ہرانسان کے آبائی گاؤں اورعلاقے کی تعریف ہے، یعنی ہرانسان کے لئے اپناگاؤں، علاقہ اوروطن کشمیرہے، ہمارا کشمیر واقعی بہت خوبصورت ہے، اس لئے تو اس کی خوبصورتی کی مثالیں دی جاتی ہیں اوراسی بنیادپرہی توہم کہتے ہیں کہ کشمیرجنت ہے اورجنت نہ کبھی کسی کافرکوملی ہے اورنہ انشاء اللہ کبھی ملے گی۔
بات آبائی گاؤں اورعلاقے کی ہورہی تھی یہ آبائی گاؤں اورعلاقہ کشمیرجیساخوبصورت ہویانہ لیکن کشمیرجیساپیاراضرورہوتاہے کہ گاؤں جاکرانسان کووہ چین اورسکون ملتاہے کہ اس کاکوئی اندازہ ہی نہیں۔ پہلے جب شہرکی بے رحم اداؤں اوربے رخ فضاؤں سے دل بوجھل ہوجاتاتوہم چپکے سے کچھ دنوں کے لئے گاؤں کاچکر لگالیتے لیکن دنیاکے کاموں اورلانجوں نے زندگی اب اتنی مصروف بنادی ہے کہ کہیں بھاگنے کاٹائم بھی نہیں ملتا۔
رمضان المبارک سے پہلے گاؤں جانے کاارادہ تھالیکن وہ ارادہ ہی رہا۔ پھردل کوتسلی دی کہ عیدکے بعدتمہیں نہ صرف گاؤں کے کھیت کھیلیانوں میں گھومائیں گے بلکہ پہاڑوں اورآپشاروں کے اطراف پھرائیں گے بھی پریہ کام بھی نہ ہوسکا۔ دودن پہلے اپنے مرشدپیرخالدقاسمی کوکال کرکے کہاکہ ہم توگاؤں نہ آسکے ایساکرلیں کہ آپ ہی شہرکاچکرلگالیں۔ ملاقات بھی ہوجائے گی اوردیداربھی۔ پیرصاحب فرمانے لگے۔ جوزوی صاحب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے حالات بہت ٹف ہوگئے ہیں۔ آپ شہرآنے جانے کی بات کررہے ہیں ہمارے جیسوں کے لئے تواب گھروں سے نکلنابھی مشکل ہوگیاہے۔ ہرروز صرف پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھ........
