Dua Aur Dawa: Mazhab Aur Nafsiyat, Tasadum Ya Ishtirak?
دعا اور دوا: مذہب اور نفسیات، تصادم یا اشتراک؟
لاہور کے ایک متوسط گھرانے کی بائیس سالہ لڑکی۔ نام فاطمہ رکھ لیجیے۔ اصلی نام نہیں ہے، مگر کہانی اصلی ہے۔ مہینوں سے بستر سے نہیں اٹھ پاتی۔ کھانے میں ذائقہ مر چکا ہے۔ رات بھر چھت کو گھورتی ہے اور آنکھوں سے خاموش آنسو بہتے رہتے ہیں۔ وہ خود کو بیکار سمجھتی ہے۔ ایک بوجھ جو نہ گھر کے کام کی، نہ دنیا کے۔ اس نے کئی بار سوچا: اگر میں نہ ہوتی تو سب کو سکون ہوتا۔
اس کی ماں نے محلے کی عورتوں سے مشورہ کیا۔ سب نے ایک ہی بات کہی: نظر لگ گئی ہے۔ باپ اسے پیر صاحب کے پاس لے گیا۔ پیر صاحب نے کہا: جنات کا سایہ ہے، چلّہ کاٹو، تعویذ باندھو، سات شبِ جمعہ دم کرواؤ۔ چھ مہینے گزرے۔ فاطمہ اور ٹوٹ گئی۔ پھر ایک سمجھدار خالہ اسے ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئیں۔ تشخیص ہوئی: شدید نوعیت کا ذہنی دباؤ۔ چند مہینوں کی مشاورت اور تھیریپی سے فاطمہ اٹھنے لگی، کھانے لگی، مسکرانے لگی۔
فاطمہ کی زندگی کے وہ چھ مہینے کس نے چرائے؟ اور کتنی فاطمائیں ہیں جن کے حصے میں وہ سمجھدار خالہ بھی نہیں آئی؟
یہ صرف ایک کہانی نہیں یہ پاکستان کے لاکھوں گھروں کی حقیقت ہے اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک سوال کا جواب ڈھونڈنا ہوگا جو تکلیف دہ ہے مگر ضروری ہے: کیا دعا اور دوا۔ واقعی ایک دوسرے کی دشمن ہیں؟ یا ہم نے خود یہ لڑائی گھڑی ہے؟
یووال نوح ہراری نے لکھا تھا کہ انسان حقیقت میں نہیں، کہانیوں میں رہتا ہے اور سب سے خطرناک وہ کہانی ہوتی ہے جسے ہم سچ مان لیں۔ بغیر جانچے۔ پاکستانی معاشرے میں ایک ایسی ہی کہانی مشہور ہے: مذہب اور سائنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور کہ جوشخص نفسیاتی مسائل کے لئے ماہر نفسیات کے جاتا ہے وہ اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں رکھتا۔ جس نے نفسیاتی علاج کے لئے دوا کھائی اس کا ایمان کمزور ہے۔
یہ جھوٹی کہانی کس نے گھڑی؟ کون ہمیں اس مقام تک لایا ہے اور تو اور خود اسلامی تاریخ اس جھوٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
نویں صدی عیسوی میں جب یورپ اندھیرے دور میں ڈوبا ہوا تھا بغداد میں ایک مسلمان طبیب ابو زید البلخی نے ایک کتاب لکھی: "مصالح الابدان والانفس" یعنی جسم اور روح کی صحت۔ اس کتاب میں انہوں نے ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کو الگ الگ اقسام میں بیان کیا، ان کی وجوہات سمجھائیں اور ایسے علاج تجویز کیے جنہیں آج کی جدید نفسیات "Cognitive Behavioral Therapy" کہتی ہے۔ یہ کام مغربی ماہرین سے ہزار سال پہلے ہوا۔ ہزار سال یہ تعداد ذرا دہرائیے۔
عثمانی دور کے ہسپتالوں میں ذہنی مریضوں کا علاج موسیقی، خوشبو اور باغبانی سے کیا جاتا تھا وہی طریقے جنہیں آج مغرب "جدید نفسیات" کے نام سے پیش کرتا ہے گویا کہ یہ جیسےکوئی نئی دریافت ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر رانیہ عوّاد جو خود ایک اسلامی عالمہ بھی ہیں نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ مریض اور معالج کے درمیان اعتماد کا رشتہ، مریض کی نفسیاتی بحالی اور ادراکی حکمت عملیاں ان سب پر مسلمان علماء نے یورپ سے صدیوں پہلے لکھا۔
تو........
