menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dissociative Identity Disorder (1)

26 0
06.05.2026

ڈسوسی ایشن آئیڈنٹیٹی ڈس آرڈر (1)

1623۔ اٹلی کا ایک کانوینٹ۔ راہبہ سسٹر بینی ڈیٹا اپنے بستر پر لیٹی ہے۔ وہ اچانک اٹھتی ہے۔ اس کی آواز بدل جاتی ہے۔ ایک مختلف لہجہ، ایک مختلف لحن، ایک مختلف چال چلن۔ اب وہ خود کو "لوکا" کہتی ہے۔ ایک نو سالہ لڑکا۔ اس کا چہرہ مختلف ہے، اس کی چال مختلف ہے، اس کی آواز مختلف ہے۔ پھر کچھ دیر بعد وہ پھر بدل جاتی ہے۔ اب وہ "اسپیرٹو" ہے، ایک اور ہستی، ایک اور لہجہ۔ کانوینٹ کی دوسری راہبائیں خوف سے کانپ رہی ہیں۔ چرچ کے بڑے آتے ہیں، بائبل پڑھتے ہیں، صلیب اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: شیطان نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے اندر تین شیاطین ہیں۔

یہ سلسلہ ہفتوں چلتا رہا۔ راہبہ کبھی خود کو نوچتی، کبھی بھوک ہڑتال، کبھی کسی اور کی زبان میں بولتی۔ ایسی زبان جو اس نے کبھی سیکھی ہی نہیں تھی مگر یہ شیطان نہیں تھا۔ یہ بینی ڈیٹا کا اپنا دماغ تھا۔ ٹوٹا ہوا، زخمی، بچپن کے ناقابلِ برداشت صدمے سے بکھرا ہوا جس نے بقا کا ایک خوفناک راستہ نکالا تھا: اپنے آپ کو کئی حصوں میں تقسیم کر لو۔ سب سے تکلیف دہ حصے کو کہیں دور بند کر دو اور باقی حصے مل کر زندگی گزار لیں۔ یہ نہ جن تھا، نہ شیطان یہ وہ بیماری تھی جسے آج سائنس "انتشارِ شخصیت" یعنی DID کہتی ہے اور یہ کہانی 1623 کی ہے مگر اس کے بعد سے آج تک، دنیا بھر میں، یہی غلطی بار بار ہوئی ہے۔

بینی ڈیٹا سے بھی پہلے 1584 میں فرانس میں ایک پچیس سالہ ڈومینیکن راہبہ "جین فیری" کا ذکر ملتا ہے۔ وہ خود کو نوچتی، دیواروں پہ سر مارتی، کبھی کہتی "میں میری میگڈلین ہوں"، کبھی کہتی "میں ایک بدروح ہوں"۔ اسے مقدس نہروں میں ڈبویا گیا، اسے کوڑے مارے گئے۔ سب کہتے رہے: بھوت ہے، جادو ہے، شیطان ہے۔ تین سو سال بعد 1886 میں فرانسیسی اعصابی ماہر ڈاکٹر دیزیرے........

© Daily Urdu