Defense Mechanism: Aap Ka Zehan Jhoot Kese Bolta Hai
ڈیفنس میکنزم: آپ کا ذہن کیسے جھوٹ بولتا ہے
آپ نے کبھی جھوٹ بولا؟ ہاں۔ مگر کیا آپ نے کبھی خود سے جھوٹ بولا؟ یہ سوال مختلف ہے۔ کیونکہ خود سے جھوٹ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا اور فرائیڈ نے کہا: ہم سب خود سے جھوٹ بولتے ہیں۔ ہر انسان اپنے آپ کو ایک خاص تصویر میں دیکھنا چاہتا ہے: اچھا ہوں، قابل ہوں، اخلاق مند ہوں، محبت کرنے والا ہوں۔ مگر زندگی ہمیشہ اس تصویر کو خطرے میں ڈالتی رہتی ہے۔ کوئی ناکامی آتی ہے تصویر ٹوٹتی ہے۔ کوئی برا جذبہ آتا ہے تصویر دھندلاتی ہے۔ کوئی شرمناک خواہش ابھرتی ہے تصویر ٹیڑھی ہونے لگتی ہے اور اس وقت ذہن ایک کام کرتا ہے خود سے جھوٹ بولنا۔ بچاؤ کا راستہ تلاش کرنا۔ یہ "بچاؤ" کیسے ہوتا ہے؟ نو طریقوں سے جنہیں فرائیڈ نے "دفاعی طریقے" (ڈیفنس میکنزم) کہا اور اس کی بیٹی اینا فرائیڈ نے انھیں مزید تفصیل سے بیان کیا۔ یاد رکھیں: یہ سب لاشعوری ہیں۔ آپ کو خود خبر نہیں ہوتی کہ آپ انہیں استعمال کر رہے ہیں۔
یہ سب دفاعی طریقوں کی ماں ہے۔ سب کی جڑ۔ ریپریشن کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بھول گئے۔ عام بھولنا اور ریپریشن میں فرق ہے۔ عام بھولنا: کل میں نے دوپہر کو کیا کھایا تھا؟ آپ کو یاد نہیں اس لیے کہ یہ اہم نہیں تھا۔ ریپریشن: بچپن میں کوئی بہت تکلیف دہ واقعہ ہوا آپ کو "یاد نہیں" اس لیے کہ اسے یاد کرنا تکلیف دہ تھا، تو ذہن نے اسے اتنی گہرائی میں دفن کر دیا کہ شعور تک نہیں آتا۔ فرائیڈ ایک کیس کا ذکر کرتا ہے۔ ایک عورت جو اپنے شوہر کا نام بھول جاتی ہے عین اس لمحے جب اسے ایک اہم دستاویز پر دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ فرائیڈ کہتا ہے: یہ حادثہ نہیں تھا۔ کچھ تھا جو اندر دبا ہوا ہے۔ ریپریشن شدہ چیزیں ختم نہیں ہوتیں وہ پوشیدہ رہتی ہیں اور پھر مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں: جسمانی علامات، خواب، غصہ جو بلا وجہ آتا ہے یہ سب ریپریشن کے اظہار کی شکلیں ہیں۔ ریپریشن وہ کمرہ ہے جس میں آپ نے سب "بھاری چیزیں " ڈال کر تالا لگا دیا مگر وہ کمرہ ایک دن چھوٹا پڑجاتا ہے اور آوازیں نفسیاتی مسائل کی شکل میں آنے لگتی ہیں۔
انسانیت کا سب سے خوبصورت دفاع، فرائیڈ نے کہا: یہ سب دفاعی طریقوں میں سب سے صحت مند ہے بلکہ یہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ جب کوئی خواہش یا جذبہ پوری طرح ظاہر نہیں ہو سکتا تو اسے کسی تخلیقی، سماجی، یا فنی کام میں ڈھال دینا سبلیمیشن ہے۔ ایک نوجوان کو بہت غصہ آتا ہے وہ باکسنگ سیکھ لیتا ہے۔ وہ غصہ رنگ میں نکالتا ہے۔ وہ تیز تیز موسیقی بجاتا ہے جب تک تھک نہ جائے۔ ایک عورت جو بچہ نہیں چاہ سکتی وہ سینکڑوں یتیم بچوں کی ماں بن جاتی ہے۔ ایک آدمی جس کے اندر جنسی........
