menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Marka e Haq Bunyan Marsoos

20 0
09.05.2026

معرکۂ حق بنیان مرصوص

سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں "معرکہ بنیان مرصوص"پاکستان کی حالیہ عسکری تاریخ کا ایک اہم باب بن کر ابھری ہے۔ جنرل عاصم منیر نے منصب سنبھالنے کے بعد سے "بنیان مرصوص" کے قرآنی تصور کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی جارحیت ہو یا اندرونی دہشت گردی، ریاست کا جواب ایک ایسی دیوار کی طرح ہوگا جس میں کوئی دراڑ ممکن نہیں۔ 2025ء میں جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھی، تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج نے "پرو ایکٹو ڈیفنس" کی پالیسی اپنائی۔

دشمن کی جانب سے کسی بھی غلط فہمی یا مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے انہوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈرون ٹیکنالوجی کو دفاعی نظام میں ضم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا عملی مظاہرہ "معرکہ بنیان مرصوص" میں نظر آیا۔ بارہا اپنے خطابات میں کہا ہے کہ آج کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔

"بنیان مرصوص" کا ایک پہلو "ڈیجیٹل دہشت گردی" اور پروپیگنڈے کے خلاف ایک مضبوط نظریاتی دیوار کھڑی کرنا بھی ہے۔ ان کا موقف رہا ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی ہر کوشش کو اسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہونا پڑے سپہ سالار نے دفاع کو معیشت سے جوڑا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط........

© Daily Urdu