Manfi Ya Man Fi
کچھ کام، کچھ نام، کچھ جام، کچھ دام، کچھ گام، کچھ گانے اور کچھ سُر اپنے خالق اور اپنے فنکار کے ساتھ ہی امر ہو جاتے ہیں۔ دم مست قلندر قوالی جس کی بھی سن لیں لیکن نصرت فتح علی خان صاحب کے رنگ کا مزہ نہیں ملے گا۔ اسی طرح خواجہ غلام فرید کا کلام "پیلو پکیاں وے، آ چنڑوں رل یار" کئی گلوکاروں نے گایا، مگر جو سوز، مٹھاس اور روحانیت ثریا ملتانیکر کی آواز میں ہے، وہی اس کلام کا اصل رنگ بن کر دل میں اترتی ہے۔ ایسے کسی روز اپنے ہم نفسوں، ہم رکابوں، ہم رقصوں کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھے اپنے حصے کی "پیلو چنٹر" رہے تھے کہ ایک حکایت سننے کے بعد ذہن میں ایک سوال کوندا۔
سوال کوندا تو فٹ تو پوچھ بھی لیا کہ حکایات میں بیان کردہ یہ جتنے بھی چور اُچکے ہوتے ہیں ان کی کایا یک لخت کیسے پلٹ جاتی ہے؟ یہاں دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی احباب مدتوں جوتیاں گھساتے رہے، بعض تو جوتیاں سیدھی بھی کرتے رہے، بلکہ چند ایک تو نفس کی اصلاح کو جوتیاں کھاتے بھی رہے لیکن کوئی 'تند' سیدھی نہ پڑی۔ تو آخر ہم ایسا کیا کریں کہ جس سے ان چوروں کی طرح یا سو........
