menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Laila Tul Qadar: Aik Raat Aur Puri Zindagi

10 0
previous day

لیلۃ القدر: ایک رات اور پوری زندگی

آج رمضان کی بیسویں رات ہے۔ دل عجیب سی کیفیت میں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وقت کسی خاص موڑ کے قریب پہنچ رہا ہو۔ کیونکہ رمضان کے آخری عشرے کی آمد کے ساتھ ہی ایک سوال دل میں بار بار اٹھنے لگتا ہے: لیلۃ القدر کیا ہے؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَمَا أَدُرَاكَ مَا لَيُلَةُ الُقَدُرِ، تم کیا جانو کہ لیلۃ القدر کیا ہے۔

یہ جملہ ہمیشہ مجھے روک لیتا ہے۔ اللہ کیوں کہتے ہیں تم کیا جانو؟

گویا انسان کی عقل کو جھنجھوڑا جا رہا ہو۔ جیسے اللہ کہہ رہے ہوں: تم اپنی سوچ سے اس رات کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اگر میں نہ بتاؤں تو تم کبھی نہیں جان سکتے کہ اس رات کی قدر کیا ہے۔

پھر اللہ خود جواب دیتے ہیں: لَيُلَةُ الُقَدُرِ خَيُرٌ مِّنُ أَلُفِ شَهُرٍ، لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

ہزار مہینے۔۔ یعنی تقریباً تراسی سال۔

ایک طرف انسان کی پوری زندگی کی عبادت اور ایک طرف ایک رات کی عبادت۔ ایک طرف ساری نمازیں، سارا ذکر، سارے سجدے اور ایک طرف لیلۃ القدر کی ایک نماز، ایک دعا، ایک آنسو۔

ایسا کیوں؟ شاید اس لیے کہ ہم وقت کو گھنٹوں اور دنوں میں ناپتے ہیں اور اللہ اعمال کو اخلاص میں ناپتے ہیں۔ اسی لیے کبھی ایک لمحہ پوری زندگی سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔

پھر میں لفظ قدر کے بارے میں سوچنے لگتی ہوں۔ عربی میں قدر کے کئی معنی ہیں۔ قدر کا ایک معنی ہے اندازہ اور پیمائش۔ یعنی ہر چیز ایک الٰہی حساب کے ساتھ پیدا کی گئی ہے۔ قدر کا دوسرا معنی ہے اہمیت اور منزلت۔ یعنی کسی چیز کی اصل قیمت اور قدر کا تیسرا معنی ہے تقدیر وہ فیصلہ جو اللہ کسی چیز کے بارے میں مقرر کر دیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں یہ تینوں معنی جمع ہو جاتے ہیں۔

یہ رات عظیم قدر والی بھی ہے۔ اس میں اعمال کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور اسی رات میں آنے والے سال کی تقدیریں بھی لکھی جاتی ہیں۔

پھر قرآن ایک اور منظر دکھاتا ہے: تَنَزَّلُ الُمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا، اس رات فرشتے اترتے ہیں۔

لفظ تَنَزَّلُ بتاتا ہے کہ یہ نزول مسلسل ہوتا ہے۔ گویا آسمان سے فرشتوں کی ایک لہر زمین کی طرف آ رہی ہو اور پھر خاص طور پر الروح کا ذکر کیا گیا ہے یعنی حضرت جبرئیلؑ۔ حالانکہ وہ بھی فرشتوں میں شامل ہیں، مگر انہیں الگ ذکر کیا گیا۔ شاید اس لیے کہ وہ وحی کے امین ہیں۔ یہی وہ فرشتہ ہیں جن کے ذریعے قرآن زمین پر آیا تھا۔

گویا لیلۃ القدر میں ایک عجیب منظر بنتا ہے: آسمان سے فرشتے اتر رہے ہیں، زمین پر بندے دعا کر رہے ہیں اور رحمت دونوں کے درمیان بہہ رہی ہے۔

پھر قرآن کہتا ہے: سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطُلَعِ الُفَجُرِ، یہ پوری رات سلامتی ہے۔۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔

سلامتی کس چیز کی؟ یہ رحمت کی سلامتی ہے۔ یہ مغفرت کی سلامتی ہے۔ یہ دلوں کے سکون کی سلامتی ہے۔

کبھی کبھی میں خود سے ایک عجیب سا تصور کرتی ہوں۔ میں کبھی کبھی آنکھیں بند کرکے سوچتی ہوں۔ آسمان سے فرشتے اتر رہے ہیں۔ ہر گلی میں، ہر شہر میں، ہر گھر میں۔ زمین شاید پہلی بار اتنی آسمانی مخلوق سے بھر رہی ہو اور پھر وہ زمین پر پھیل جاتے ہیں۔

کوئی کسی مسجد کے پاس رک جاتا ہے۔ کوئی کسی سجدے کے پاس۔ کوئی کسی ایسے انسان کے قریب جو رات کے اندھیرے میں اللہ کو یاد کر رہا ہو۔

پھر میں سوچتی ہوں۔۔ کیا ہو اگر انہی فرشتوں میں سے کوئی میرے پاس آ کر رک جائے؟ وہ مجھے دیکھ رہا ہو جب میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤں۔

اور جب میں کہوں: یا اللہ۔۔

تو وہ آہستہ سے کہے: آمین۔

میں سوچتی ہوں۔۔ اگر کوئی فرشتہ میرے سجدے کے پاس کھڑا ہو اور دیکھ رہا ہو کہ میں اپنے رب کے سامنے جھک رہی ہوں۔

تو وہ کیا دیکھے گا؟ ایک ایسا دل جو واقعی اللہ کو چاہتا ہے؟ یا ایک ایسا دل جو صرف الفاظ دہرا رہا ہے؟

یہ خیال کبھی کبھی مجھے ہلا دیتا ہے۔ کیونکہ لیلۃ القدر میں ہم صرف اللہ کے سامنے نہیں ہوتے۔ ہم فرشتوں کی گواہی میں ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے پاس سے گزرتے ہیں۔ ہماری دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ ہمارے سجدوں کو دیکھتے ہیں اور شاید آسمان کی طرف لوٹ کر کہتے ہوں: یا رب۔۔ اس بندے نے واقعی تجھے پکارا تھا۔

یا شاید۔۔ وہ خاموشی سے گزر جاتے ہوں۔

پھر مجھے سورۃ القدر کی آخری آیت یاد آتی ہے: سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطُلَعِ الُفَجُرِ، یہ رات سلامتی ہے۔۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔

یعنی پھر فجر آ جاتی ہے۔ فرشتے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ گلیاں ویسی ہی ہو جاتی ہیں۔ گھر ویسے ہی رہتے ہیں۔ مگر شاید کسی دل کے اندر کوئی چیز ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہوتی ہے۔

شاید کسی کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ شاید کسی کی تقدیر بدل چکی ہوتی ہے۔ شاید کسی کی وہ دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے جو اس نے برسوں سے مانگی تھی اور شاید کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اس رات سے گزر تو جاتا ہے مگر اسے پہچان نہیں پاتا۔

یہی خیال دل کو خاموش کر دیتا ہے۔ کیونکہ لیلۃ القدر کا سب سے بڑا راز شاید یہی ہے کہ یہ اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتی۔ یہ رات شور سے نہیں آتی، یہ خاموشی سے دلوں کے پاس سے گزر جاتی ہے۔ اسی لیے شاید رمضان کے آخری دنوں میں دل بار بار یہی کہتا ہے: اے اللہ۔۔

اگر وہ رات آ چکی ہو تو ہمیں اس سے محروم نہ کرنا اور اگر وہ آنے والی ہو تو ہمیں اس کے لیے جگا دینا۔ کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہماری زندگی میں کتنی لیلۃ القدر باقی ہیں۔۔


© Daily Urdu