menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ankhen Bheeg Jati Hain

23 0
16.05.2026

اکثر سوچتا ہوں کہ ہم انسان بھی کتنے بےبس، لاچار اور مجبور ہیں کہ اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے۔ ماضی کے مریض اور کچھ کریں نہ کریں گھٹ گھٹ کے مرتے ضرور ہیں، آخر کیوں؟ کیا دنیا کے سائنس دانوں اور ڈاکٹروں نے ایسی کوئی دوائی دریافت نہیں کی کہ جس کے کھاتے ہی انسان اپنے ماضی سے بے نیاز ہو جائے؟ کیا طبیبوں نے کوئی نسخہ اب تک تخلیق نہیں کیا کے جس کے سبب ماضی فراموش ہو سکے۔ کیا کسی روحانی پیر، فقیر کا کوئی دم ایسا ہے کہ جس کے سبب ہم ماضی کی قید سے رہائی پا جائیں؟

مجھے رہ رہ کر مولا امیرِ کائنات کا فرمان یاد آتا ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ تلواروں کے زخم بھر جاتے ہیں، زبان کی دھار کے لگے زخم نہیں بھرتے۔ جیسے زبان کی دھار کے لگے زخم کبھی نہیں پھر پاتے ویسے ہی کچھ رشتے اور لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جنکی جدائی کے زخم ہر سال ہرے ہوجاتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ شاید یہ صرف میرے ساتھ ہی ہے یا اکثر کے ساتھ یہ........

© Daily Urdu