menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sacha Soda Gurdwara Chuharkana, Kya Isay Giraya Gaya Hai?

28 0
07.07.2026

سچا سودا گردوارہ چوہڑکانہ، کیا اسے گرایا گیا ہے؟

کچھ دنوں سے ہمارے سوشل میڈیا اور انڈین چینلز پر چوہڑکانہ فاروق آباد کے ایک پرانے گردوارے کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ میڈیا کی شوریدہ لہروں میں حقیقت کی نرم آواز دب کر رہ گئی ہے۔ نیک نیتی سے اٹھایا گیا قدم، اپنوں کی نادانیوں اور بیگانوں کی منافقت کے بوجھ تلے کچلا جا رہا ہے۔ سچائی کا چراغ جھوٹ کی آندھیوں میں لرزاں ہے۔

فاروق آباد، منڈی چوہڑکانہ کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، مگر اس کے پہلو میں آباد گاؤں چوہڑکانہ یا "سُچّا سودا" صدیوں کی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ روایت ہے کہ بابا جی گرونانک نے باپ کی دی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگانے کے بجائے یہاں سادھووں کو کھانا کھلا کر اپنے رب کے ساتھ سُچّا سودا کیا۔ اسی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے یہاں گردوارہ تعمیر ہوا۔ یہ گاؤں اس سودے سے پہلے وجود میں آیا یا بعد میں، اس کا فیصلہ وقت کی دھند میں گم ہے۔

پلاک کی لغات میں "سُچّا" کو کھرا، نکھرا، نیک، چنگا اور ایماندارانہ کہا گیا ہے، جبکہ "سودا" کا مطلب بیوپار اور کاروبار ہے۔ یوں یہ نام اپنے اندر روحانی اور معاشی دونوں جہتیں سمیٹے ہوئے ہے۔

انگریز دور میں نہری نظام کے تحت گوگیرہ برانچ یہاں سے گزری تو نہری پانی اس علاقے کو ملنا شروع ہوگیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ریلوے لائن بچھائی گئی تو چوہڑکانہ گاؤں کے باسیوں کی مخالفت کے باعث ریلوے اسٹیشن نہر پار بنایا گیا۔ پہلے یہاں بانسوں کی منڈی ہوتی تھی۔ اس جگہ پر اسٹیشن کے ساتھ ایک شہر آباد کیا گیا جسے "منڈی چوہڑکانہ" کہا گیا۔ یہ شہر خالصتاً زرعی پیداوار کا مرکزِ کاروبار تھا،........

© Daily Urdu