menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gen Z Aur Ehtejaji Tehreekein

24 0
20.10.2026

جین زی اور احتجاجی تحریکیں

بھارت سے یورپ اور افریقہ سے جنوبی امریکا تک جین زی نے پایہ تخت ہلا دیے ہیں جس کے نتیجے میں کہیں نظام چوپٹ ہوا ہے تو کہیں نظام میں پرانے چہرے نئے روپ رنگ سے واپس آئے ہیں۔ نوجوانوں کو ایک ایسی قوت سمجھا جاتا رہا ہے جسے جذبات سے تو بہلایا جا سکتا ہے، نعروں سے ورغلایا جا سکتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ خاموش بھی کرایا جا سکتا ہے۔ مگر تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی رہی ہے کہ جب نوجوانوں کی مایوسی اجتماعی شعور میں ڈھل جائے تو وہ محض حکومتوں کے لیے دردِ سر نہیں رہتی، پورے سیاسی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اس وقت آدھی دنیا جنگ کی لپیٹ میں ہے اور آدھی معاشی جنگی صورتحال کے سبب پرتشدد احتجاجوں کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔

آج دنیا کے مختلف حصوں میں اٹھنے والی جین زی کی احتجاجی تحریکیں اسی سوال کی نئی صورت ہیں۔ انڈونیشیا سے کینیا، نیپال سے مڈغاسکر، پیرو سے فلپائن اور سربیا، بھارت سے یورپ تک نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ کہیں حکومتیں گر چکی ہیں، کہیں حکمران اصلاحات پر مجبور ہوئے ہیں، کہیں احتجاج خون میں نہلا دیے گئے ہیں اور کہیں تحریکیں اب بھی اپنے مطالبات کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ بظاہر یہ الگ الگ ملکوں کی الگ الگ کہانیاں ہیں مگر ان کے پس منظر میں ایک مشترک حقیقت دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ کہ نئی نسل ایسے نظام کے ساتھ مزید سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں جو اس سے قربانی تو مانگتا ہے مگر اختیار، مواقع اور جواب دہی سے انکاری ہے۔

جین زی کی بغاوت کو سمجھنے کے لیے اس نسل کی معاشی زندگی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں تعلیم کو ترقی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، وہاں ڈگری یافتہ نوجوان بھی بے روزگاری، کم اجرت، مہنگائی اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش، ملازمت ملنے کے بعد گھر خریدنے کی ناممکن خواہش اور زندگی بھر محنت کے باوجود معاشی استحکام حاصل نہ کر پانا اس نسل کے تجربے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو بتایا گیا کہ تعلیم حاصل کرو، محنت کرو، میرٹ پر یقین رکھو اور آگے........

© Daily Urdu