menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jadeed Daur Mein Ilm e Kalam Aur Deeni Fikr Ki Az Sar e Nao Tashkeel Ki Zaroorat

28 0
02.05.2026

جدید دور میں علمِ کلام اور دینی فکر کی ازسرِ نو تشکیل کی ضرورت

اسلامی فکر کی تاریخ میں فلسفہ اور علمِ کلام دو ایسے بنیادی شعبے رہے ہیں جنہوں نے دین کے عقلی اور نظری پہلوؤں کی توضیح و تشریح کا فریضہ انجام دیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ روایتی علمی ڈھانچے آج کے جدید انسان کے فکری، اخلاقی اور سماجی سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا پھر بدلتے ہوئے علمی اور فکری حالات کے پیشِ نظر ان کی تشکیلِ نو کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے؟

ابتدائی اسلامی صدیوں میں علمِ کلام مخصوص عقائدی مباحث کے دفاع اور توضیح کے لیے وجود میں آیا۔ جبر و اختیار، صفاتِ الٰہی اور حدوث و قدمِ عالم جیسے مسائل اس کے مرکزی موضوعات تھے۔ ان مباحث کی تشکیل میں یونانی فلسفے، خصوصاً ارسطوئی منطق اور مابعد الطبیعیات، کا گہرا اثر تھا۔ اس زمانے میں یہ علمی بنیادیں بدیہی اور قابلِ قبول سمجھی جاتی تھیں۔ مگر جدید دور میں صورتِ حال یکسر بدل چکی ہے۔ سائنس نے کائنات کے تصور کو بدل دیا ہے، انسان کی خود فہمی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور علم کے ذرائع و معیارات پر بھی نئی بحثیں جنم لے چکی........

© Daily Urdu