menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yemen Ki Jang: Mazhab, Siasat Aur Ilaqai Taqaton Katasadum

10 1
31.01.2026

یمن ایک لمبے عرصے سے داخلی اور خارجی طاقتوں کے نسلی اور مذہبی جھگڑوں کے کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل (PLC) جسے سعودی عرب اور عرب لیگ کی حمایت حاصل ہے یمن کے بعض علاقوں پہ کنٹرول رکھتی ہے۔ حوثی تحریک کا صنعا سمیت شمالی یمن کے بڑے حصے پہ قبضہ ہے جبکہ جنوبی عبوری کونسل (STC) نے پچھلے کچھ عرصے میں جنوب میں صدارتی قیادت کونسل (PLC) کے کئی علاقوں پہ قبضہ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔

جغرافیائی طور پہ یمن کے بڑے مذہبی گروہ زیدی شیعہ (حوثی) شمالی یمن میں ہے جب کہ سنی شافعی وسطی اور جنوبی یمن میں ہے۔ 1990 میں جنوبی اور شمالی یمن کے انضمام کے بعد، سعودی سلفی نظریہ کو زیدی علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ اس چیز نے زیدی اشرافیہ کو سیاسی طور پہ تنہا اور ان کی ثقافتی حیثیت کو خطرات سے دوچار کیا۔ یہ خدشہ آخرکار 2000 میں حوثی تحریک (انصار اللہ) کے قیام کا سبب بنا۔ یہ ایک نسلی تنازع نہیں تھا لیکن علاقائی طاقتوں نے مذہبی، مسلکی شناخت کو سیاست اور ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔

شمالی یمن (یمن عرب جمہوریہ) قبائلی طور پہ قدامت پسند اور سعودی عرب کا حامی ہے جبکہ جنوبی یمن (عوامی جمہوریہ یمن) اشتراکی، سیکولر، برطانوی نوآبادیاتی ورثے کا حامل تھا۔ 1990 کے شمالی، جنوبی یمن کے انضمام کے بعد طاقت کا مرکز صنعا بنا اور جنوب کی اشرافیہ کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ معاشی وسائل اور ملٹری پوزیشنز پہ........

© Daily Urdu