menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maduro Ke Iqtidar Ka Khatma Aur Trump Ke Azaim

11 18
07.02.2026

وینزویلا، ہیوگو شاویز کے 1999 میں اقتدار میں آنے کے ساتھ ایک سوشلسٹ ریاست میں تبدیل ہوا جس نے آتے ہی بولیوین انقلاب کی طرز پہ بڑی صنعتیں (خصوصا تیل) قومیائی، سوشل ویلفیئر کا پروگرام دیا، جبکہ امریکہ دشمنی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا۔ نکولو مادورو نے 2013 میں میں ہیوگو شاویز کے اچانک انتقال کے بعد ان کی جگہ لی اور اپنے پیشرو کی سوشلسٹ پالیسیوں کو بالکل اسی طرح جاری و ساری رکھا۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے ان کے زیر اقتدار وینزویلا کے عوام کو امریکن پابندیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک، ادویات اور دوسری روزمرہ کی چیزوں کی وسیع قلت کا سامنا تھا۔

امریکن نواز اپوزیشن کی جانب سے ان پہ بد عنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مخالفین کے خلاف سیاسی جبر اور دباؤ کے وسیع تر الزامات کا سامنا تھا۔ امریکہ اور بہت سے مغربی ممالک مادرو کی حکومت پہ الیکشن میں بہت بڑے پیمانے پہ دھاندلی، منشیات کی سمگلنگ اور پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

وینزویلا کی معیشت زیادہ تر تیل کی آمدن پہ منحصر ہے دنیا کے چند بڑے ذخائر میں سے ایک جو توانائی سے متعلق جغرافیائی سیاست کو ان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بناتا ہے۔ نئے سال کے شروع میں 3 جنوری کو امریکہ نے ونیزویلا میں راتوں رات ایک ملٹری آپریشن کرکے مادرو اور اس کی بیوی کو ان کے صدارتی محل کے کمپاؤنڈ سے پکڑ کے مجرمانہ الزامات (منشیات سے جڑی دہشت گرد سرگرمیوں اور سمگلنگ میں ملوث ہونے) کے تحت امریکہ منتقل کیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول یہ امریکن فوج کی بہت ہی کمال مہارت اور سرعت پہ مبنی........

© Daily Urdu