menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Police Walay Ka Karva Sach

42 0
16.04.2026

پولیس والے کا کڑوا سچ

محکمہ پولیس ایسا موضوع ہے جس پر بحث و مباحثہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ عام طور پر اس ادارے کا نام ذہن میں آتے ہی سخت گیر اور روایتی تھانہ کلچر کا تصور ابھرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی محکمے کے بطن سے ایسے جوہرِ قابل بھی منظر عام پر آئے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، علمی قابلیت اور دیانت داری سے وردی کا وقار بلند کیا۔

شہریوں پر جب بھی ظلم ہو وہ پولیس کے نام نامہ لکھ دیتے ہیں جسے درخواست کہا جاتا ہے پھر پولیس ایف آئی آر کی شکل میں ایک نامہ لکھ دیتی ہے اور اس کے بعد پولیس نامہ کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ کبھی شہری پولیس کے خلاف کسی بڑی اتھارٹی کو نامہ لکھ دیتا ہے تو کبھی تفتیشی آفیسر کوئی نامہ لکھ کر کیس کی فائل میں رکھ دیتا ہے۔ اس بار البتہ ہمیں جو پولیس نامہ ملا وہ دو جلدوں پر تھا۔ پہلا پولیس نامہ دیکھ کر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 360 یاد آئی جس کا تعلق کسی کو "پاکستان سے اغوا کرکے لیجانا" ہے یہ پولیس نامہ اتنے ہی صفحات پر مشتمل ہے۔

دوسرا پولیس نامہ دیکھ کر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 509 یاد آئی جو بہت اچھی ہے یعنی خواتین کی عفت کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ہمیں دونوں پولیس ناموں میں پھنسانے والے قلم فاونڈیشن کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے جو چند ادارے انتہائی متحرک ہیں ان میں علامہ عبدالستار عاصم اور ان کا ادارہ قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل سر فہرست ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ........

© Daily Urdu