menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Subon Ki Haqiqat

20 0
10.09.2026

نئے صوبے حقیقت اور چیلنجز

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام دائمی انتظامی ضرورت ہے یا صرف وقتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، یہ سوال طویل عرصے سے ملکی سیاست کے افق پر گردش کر رہا ہے اگر حقائق اور عوامی مسائل کی عینک سے دیکھا جائے تو کروڑوں کی آبادی کو چند مراکز سے چلانا انتظامی بدحکومتی، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ سرائیکی وسیب، ہزارہ اور سندھ کے دور دراز علاقوں کے رہائشی آج بھی اپنے معمولی انتظامی و عدالتی کاموں کے لیے سو سال پرانے مرکزیت پسند نظام کے ہاتھوں خوار ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں نئے صوبے وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں تاکہ اختیارات اور فنڈز نچلی سطح پر منتقل ہوں اور دہلیز پر انصاف و ترقی ممکن ہو سکے۔

دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی تمام اہم سیاسی جماعتیں اس حساس اور بنیادی مسئلے کو صرف انتخابات کے قریب ووٹ بینک حاصل کرنے سیاسی بلیک میلنگ اور جذباتی نعرے بازی کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں جبکہ اقتدار میں آتے ہی یہ ترجیح فراموش کر دی جاتی ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ہمسایہ ملک بھارت اس کی ایک روشن اور کامیاب مثال ہے جہاں انتظامی ضرورت کے تحت اتر پردیش جیسے وشال صوبے سے اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ جیسے نئے چھوٹے صوبے تشکیل دیے گئے۔ چھوٹے صوبوں کے قیام سے وہاں نہ صرف حکومتی کنٹرول مضبوط ہوا انتظامی کارکردگی اور بجٹ کی تقسیم میں شفافیت آئی بلکہ مقامی سطح پر تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے عوام کے حالاتِ زندگی میں نمایاں اور پائیدار بہتری رونما ہوئی۔ اگر پاکستان میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور وقتی انتخابی مفادات کے........

© Daily Urdu